رسائی کے لنکس

عالمی تاریخ کے اس موڑ کی یاد میں بیلجیئم، گلاسگو اور لندن میں آج خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا

برطانیہ آج سے ٹھیک 100 برس قبل، یعنی 4 اگست ء2014 کو جنگ عظیم اول میں شامل ہوا تھا۔ یہ جنگ جو عالمی سطح پر پھیل گئی تھی اور لاکھوں جانیں اس جنگ میں ضائع ہوئی تھیں۔ عالمی تاریخ کے اس موڑ کی یاد میں بیلجیئم، گلاسگو اور لندن میں آج خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا، جس میں وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون، شاہی خاندان اور وزارت خارجہ سمیت وزرا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یہ تقریبات پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ کی شراکت داری کی یاد کا ایک اہم حصہ تھیں۔
ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق، پیر کے روز بیلجئیم میں جنگ عظیم اول کی صد سالہ یاد میں خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں شہزادہ ولیم، شہزادی کیٹ میڈیلٹن اور عالمی رہنماؤں نے شرکت کی۔
بیلجئیم کے شہرلیج میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں شہزادہ ولیم نے اور جرمن فوج کی پیش قدمی کو پسپا کرنے والے برطانوی فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔
دنیا کے 50 سے زائد ریاستوں کے سربراہان نے لیج پر حملے کے موقع کی یاد میں اس خصوصی تقریب میں شرکت کی۔ فرانسسی صدر فرنسواں ہولاں نے اس موقع پر اپنے کلمات میں کہا کہ یہ وہی زمین ہے جو پہلی بار جنگ عظیم اول کا میدان جنگ تھی جس کے بعد فرانسسی اور برطانوی فوجیوں نے تنازعے میں شمولیت اختیار کی تھی۔
تقریب سے شہزادہ ولیم نے خطاب کرتے ہوئےکہا کہ'جب جنگ عظیم چھڑی تو یورپ کے ممالک ایک دوسرے پر حملہ کرنے لگےاور خونی جنگیں لڑئیں لیکن آج یورپی ممالک ایک دوسرے کے دوست اور اتحادی بن چکے ہیں۔'
'میں اس موقع پر ان بے مثال قربانیاں دینے والے فوجیوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنھوں نے ہماری آزادی کے لیے اپنی جانیں دیں تاریخ میں ان بہادر سپاہیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔'
چار برسوں 1918ء تک محیط جنگ عظیم اول کی صد سالہ یاد کے سلسلے میں گلاسگو میں ایک علیحیدہ سے تقریب منعقد ہوئی جس میں شہزادہ چارلس اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے شرکت کی اور گلاسگو کیتھیڈرل کی خصوصی سروس میں شرکت کی۔
شہزادہ ہیری نے کینٹ فوکسٹن میں پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ یاد میں منائی جانے والی ایک تقریب میں میموریل کی نقاب کشاائی کی اور مرنے والے فوجیوں کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور سویلین پریڈ کی جانب سے سلامی وصول کی۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، برطانوی وزارات خارجہ اور دنیا بھر میں برطانوی سفارت خانے جنگ عظیم اول میں برطانیہ کی شمولیت کی صد سالہ یاد تقریبات میں حصہ لے رہے ہیں۔
اس سلسلے میں پیر کی شب رات 10 بجے سے ایک گھنٹے رات 11بجے تک تمام سرکاری عمارتوں اور اہم مقامات کی برقی روشنیاں گل کر دی جائیں گی اور صرف ایک موم بتی جلا کر مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔
اس طرح برطانوی عوام سے بھی گزارش کی گئی ہے کہ آج رات جس وقت برطانیہ نے جرمنی کے خلاف بیلجئیم کا ساتھ دینے کے لیے اعلان جنگ کیا تھا اس وقت کی یاد میں تمام برقی روشنیاں ایک گھنٹے کے لیےگل رکھیں جائیں۔
تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ جنگ عظیم اول تاریخ میں انسانیت سوز واقعات سے بھری پڑی ہے جس میں شہری آبادی پر بڑے پیمانے پر بمباری کی گئی اور انسانی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر فوج کو حرکت میں لایا گیا اسے انسانیت کی تاریخ کی ایک تباہ کن جنگ قرار دیا جاتا ہے جس میں 10 لاکھ سے زائد فوجی مارے گئے اور لگ بھگ 20 لاکھ زخمی ہوئے اور اور ان گنت شہری غربت، بھوک، قحط اور نسل کشی کا شکار بنے۔ اس جنگ نے قدیم یورپ کو مٹا کر نئے یورپ کو جنم دیا جس میں سلطنتوں کے تخت الٹ دئے گئے۔

XS
SM
MD
LG