رسائی کے لنکس

فرانسواں ہولاں اور جوخم کوگ نے فرانسسی اور جرمن فوجیوں کی یادگار پر ایک سربراہ اجلاس منعقد کیا، جس مقام پر اندازاً 30000فوجی ہلاک ہوئے تھے

فرانس کے خلاف جرمنی کے اعلانِ جنگ کو آج 100سال پورے ہوئے۔ جنگ عظیم اول چھِڑنے کی مناسبت سے، فرانس اور جرمنی کے صدور نے اتوار کو فرانس کے مشرقی شہر السیک میں ملاقات کی۔

فرانسواں ہولاں اور جوخم کوگ نے فرانسسی اور جرمن فوجیوں کی یادگار پر ایک سربراہ اجلاس منعقد کیا، جس مقام پر اندازاً 30000فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

یہ مقام، ’وادی رائین‘ کے کنارے واقع دلکش منظر کی اوٹ میں واقع ہے، جسے فرانسسی میں ’ویئل ہرماں‘ کے نام سے، جب کہ جرمن اِسے ’ہرٹمن ولرکوف‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔


لڑائی میں بے شمار ہلاکتوں کے پیشِ نظر، اِس پہاڑ کو ’آدم خور‘ کا نام دیا گیا ہے۔

اپنے کلمات میں، مسٹر ہولاں نے فرانس اور جرمنی کے درمیان امن کو سراہا۔ تاہم، اُنھوں نے یورپی یونین کو درپیش مشکلات کی طرف توجہ دلائی، مثلاً عالمی معاشی بحران اور یورپ کے کچھ حصوں میں معیار زندگی کو بلند کرنے کے سلسلے میں لاحق چیلنج۔ اُنھوں نے دنیا کے دیگر حصوں میں امن کی تلاش کے لیے اپیل کی، جِن میں یوکرین، غزہ اور جمہوریہٴوسطی افریقہ شامل ہیں۔

اپنے خطاب میں مسٹر کوگ نے کہا کہ آج یورپ کو اپنی نوعیت کی مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ جنگ عظیم اول کے دوران فوجیوں کو جس قسم کے مسائل درپیش تھے، اس تناظر میں دیکھا جائے تو فرانس اور جرمنی کے آج کے مسائل کوئی وقعت نہیں رکھتے۔

جنگ عظیم اول کی صد سالہ تقریبات پیر کو جاری رہیں گی۔ اس سلسلے میں بیلجیئم میں 100سالہ یاد کی ایک تقریب منعقد ہوگی، جس کا موضوع برطانیہ کی طرف سے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ ہوگا۔

XS
SM
MD
LG