رسائی کے لنکس

چین اور جنوبی کوریا کے اس دور میں جاپان کے ساتھ مختلف نوعیت کے علاقائی تنازعات ہیں اور جاپان کی طرف سے فوج کے کردار کو وسیع کرنے کی سعی پر اُنھیں تشویش لاحق ہے

چینی صدر، ژی جِن پِنگ، جو اِن دِنوں جنوبی کوریا کے دو روزہ دورے پر ہیں، جاپان کی طرف سے چین اور کوریا کے خلاف ماضی میں لڑی گئی نوآبادیاتی جنگ کو ‘وحشیانہ‘ جارحیت قرار دیتے ہوئے، اِس کی مذمت کی ہے۔

جمعے کے روز سیئول نیشنل یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے، مسٹر ژی نے کہا کہ 20 ویں صدی عیسوی کے پہلے نصف سال کے دوران جاپان کے شہنشاہیت کے دور کی جارحیت کے نتیجے میں چین اور جنوبی کوریا کو ’شدید نقصان‘ برداشت کرنا پڑا۔

مسٹر ژی نے ایک ہی روز قبل پیش کش کی کہ جنگ عظیم دوئم کے دوران جاپان کی شکست کی 70 ویں سالہ یادگار کے موقعے پر، جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ یادگاری سرگرمیوں کا انعقاد ممکن ہے۔


جنوبی کوریا اور چین جاپانی شہنشاہیت کا سنگین شکار ہوچکے ہیں۔

اس جدید دور میں، دونوں ملکوں کے جاپان کے ساتھ مختلف نوعیت کے علاقائی تنازعات ہیں اور جاپان کی طرف سے فوج کے کردار کو وسیع کرنے کی کوششوں پر اُنھیں تشویش لاحق ہے۔

صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد، مسٹر ژی کا جنوبی کوریا کا یہ پہلا دورہ ہے، جسے متعدد مبصرین چین کی طرف سے سیئول کے ساتھ تعلقات میں قربت پیدا کرنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں، جس کا مقصد جاپان کو تنہا کرنا ہے۔

جمعرات کے روز مسٹر ژی اور جنوبی کوریا کے صدر پارک گیو ہوئی نے دونوں ممالک کی معیشتوں کے مابین پہلے ہی سے شاندار مراسم کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

مسٹر ژی کے ساتھ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس میں، مز پارک نے کہا کہ سال کے اختتام تک جنوبی کوریا اور چین آزاد تجارت سے متعلق ایک سمجھوتا طے کرنے کا کام مکمل کرلیں گے، جس پر ایک طویل عرصے سے بات چیت جاری ہے۔

XS
SM
MD
LG