رسائی کے لنکس

امریکہ کی سابق قائم مقام اٹارنی جنرل سیلی یاٹس نے کہا ہے کہ انھوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اولین دنوں میں وائٹ ہاوس کو متنبہ کیا تھا کہ ٹرمپ کے قومی سلامتی کے مشیر سابق جنرل مائیکل فلین روس کے ہاتھوں بلیک میل ہو سکتے ہیں۔

پیر کو سینیٹ کے ایک پینل کے سامنے بیان دیتے ہوئے یاٹس نے بتایا کہ انھوں نے وائٹ ہاوس کو اس بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے فلین کو برطرف کیے جانے کے دو ہفتے قبل مطلع کیا تھا ۔

فلین کو روسی سفیر کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں نائب صدر سے غلط بیانی پر فارغ کیا گیا تھا۔

یاٹس کا کہنا تھا کہ وہ نائب صدر مائیک پینس اور دیگر انتظامی عہدیداروں کی طرف سے ایسے بیانات پر تشویش میں مبتلا رہیں کہ فلین روسی سفیر سرگئی کیسلیاک سے رابطے میں نہیں رہے جب کہ نگرانی کے لیے معمول کے انتظامات سے جو معلومات سامنے آ رہی تھیں وہ ان بیانات کے برعکس تھیں۔

سیلی یاٹس سینیٹ پینل کے سامنے بیان ریکارڈ کروا رہی ہیں
سیلی یاٹس سینیٹ پینل کے سامنے بیان ریکارڈ کروا رہی ہیں

سابق قائم مقام اٹارنی جنرل نے سینیٹ پینل کو بتایا کہ "نائب صدر اور دیگر کو یہ جاننے کا حق حاصل تھا کہ جو معلومات وہ امریکی عوام کو دے رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ روسیوں کو یہ پتا تھا کہ جنرل فلین کیا کر چکے ہیں اور روسی یہ بھی جانتے تھے کہ جنرل فلین نے نائب صدر کو گمراہ کیا۔"

انھوں نے مزید کہا کہ " اور جب بھی ایسا ہوا اس سے خطرات بڑھے۔ آپ اپنی قومی سلامتی کے مشیر کو روس کے ہاتھوں استعمال ہونے نہیں دینا چاہتے۔"

مائیکل فلین
مائیکل فلین

پیر کو ہونے والی یہ سماعت سینیٹ کی طرف سے ان تحقیقات کا حصہ تھی جو گزشتہ سال صدارتی انتخاب میں روسی کی مبینہ مداخلت کے بارے میں کی جا رہی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG