رسائی کے لنکس

یزیدی عورتیں داعش کے مقابلے لیے فوجی بن رہی ہیں


ایک فوجی یزیدی لڑکی، اسلامک اسٹیٹ سے مقابلے لیے تیار۔ 14 نومبر 2016

ایک فوجی یزیدی لڑکی، اسلامک اسٹیٹ سے مقابلے لیے تیار۔ 14 نومبر 2016

2014 میں اسلامک اسٹیٹ نے اس علاقے پر قبضے کے بعد سے عسکریت پسندوں نے 7 ہزار یزیدی عورتوں اور لڑکیوں کا زبردستی اٹھایا اور انہیں جنسی غلام کے طور پر بیچ دیا۔

یہ پیر کی ایک خاموش اور پر سکون شام ہے۔ خواتین فوجی اپنے مرکز میں والی بال کھیل رہی ہیں۔ فوجی اڈے میں تبدیل ہونے سے پہلے یہ ایک اسکول کی عمارت ہوا کرتی تھی۔

اس علاقے میں سڑک کے دونوں جانب ایک بڑا قبرستان ہے جس میں اسلامک اسٹیٹ کے ہاتھوں قتل کیے جانے والی سینکڑوں افراد دفن ہیں۔

فوجی عورتوں کا کہنا ہے کہ وہ فوج میں لڑنے کے لیے شامل نہیں ہوئیں بلکہ وہ اس لیے فوجی بنی ہیں تاکہ وہ خود پر مسلط لڑائی کا مقابلہ کر سکیں۔

یہ تمام عورتیں یزیدی قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ اور ان کی برہمی کا ایک جواز موجود ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ عسکریت پسند ہماری بیٹیوں اور بہنوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور انہیں دوسرے شہروں میں بیچ دیتے ہیں۔

نجواعلی اسماعیل ایک 25 سالہ فوجی خاتون ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ میں پیش مرگہ میں اپنے وطن کی حفاظت کے لیے شامل ہوئی ہوں۔

2014 میں اسلامک اسٹیٹ کے قبضے میں آ جانے کے بعد سے عسکریت پسندوں نے 7 ہزار یزیدی عورتوں اور لڑکیوں کا زبردستی اٹھایا اور انہیں جنسی غلام کے طور پر بیچ دیا۔

یزیدی قبیلے کو مٹانے کے لیے انہوں نے 5 ہزار سے زیادہ لوگوں کو قتل کر دیا جسے اقوام متحدہ نے نسل کشی کا نام دیا ہے۔

کرد پیش مرگہ فورسز میں شامل عورتیں جنگی حربوں کی تربیت حاصل کرتی ہیں اور ہتھیار استعمال کرنے کی ٹریننگ لیتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے میدان جنگ کی اگلی صفوں میں اسلامک اسٹیٹ کا مقابلہ بھی کیا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ عسکریت پسندوں کے قبضے میں آنے والی اکثر یزیدی عورتیں اور لڑکیاں جنسی تشدد کا نشانہ بننے کی بجائے خود کشی کو ترجیح دیتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ کر یورپ جا سکتی تھی، لیکن انہوں نے یہاں رہ کر انتہاپسندوں کا مقابلہ کرنے کو ترجیح دی۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ سڑک کے دونوں جانب بڑے پیمانے پر قبریں ہیں ۔ جب لوگ انہیں دیکھتے ہیں تو افسردہ ہو جاتے ہیں۔ اس علاقے میں رہنے والوں کی عمریں ایک سال سے 90 سال تک ہیں اور ہم چاہتی ہیں کہ انہیں محفوظ مقامات پر بھیج دیں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG