رسائی کے لنکس

گو کہ سنجار اب کردوں کے کنٹرول میں ہے لیکن بہت سے یزیدی اب بھی اپنے گھروں کو واپس جانا محفوظ تصور نہیں کرتے۔

عراق اور دنیا کے مختلف ملکوں میں یزیدی برادری نے سنجار میں شدت پسند گروپ داعش کی طرف سے لوگوں کے قتل عام کی دوسری برسی منائی اور حکومتوں سے مطالبہ کیا اس گروپ کے ہاتھوں قید یزیدیوں کو بازیاب کروایا جائے۔

2014ء میں داعش نے اس شہر پر حملہ کیا تھا اور یہاں کم ازکم پانچ ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جن میں اکثریت مردوں اور لڑکوں کی تھی۔ شدت پسندوں نے بہت سی یزیدی خواتین اور لڑکیوں کو بھی یرغمال بنایا اور ایسی خبریں بھی سامنے آتی رہیں کہ انھیں جنسی غلام بنا لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے بدھ کو کہا کہ یہ مذہبی اقلیت بدستور داعش کی ایذا رسانیوں کا شکار ہے۔ شام سے متعلق اقوام متحدہ کے تحقیقاتی کمیشن کا کہنا تھا کہ "دو سال ہو گئے 3200 خواتین اور بچے اب بھی داعش کے ناقابل بیان تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔"

ان میں سے اکثریت کو شام کے شہر رقہ میں رکھا گیا ہے جسے داعش اپنی نام نہاد خلافت کا دارالخلافہ قرار دیتا ہے۔

اگست 2014ء میں داعش کے حملے سے قبل سنجار دنیا میں یزیدی برادری کی سب سے بڑی آماجگاہ تھی۔ داعش کے انتہا پسند اس برادری کو کافر تصور کرتے ہیں۔

گزشتہ نومبر میں عراق کی کرد فورسز "پیش مرگہ" نے امریکی زیر قیادت اتحاد کی معاونت سے سنجار کو داعش کے قبضے سے آزاد کروا لیا تھا۔

بدھ کو شمالی عراق میں لالیش کے معبد میں یزیدیوں کے روحانی پیشوا حاضم تحسین نے کہا کہ "میں امریکہ کی زیر قیادت اتحاد کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔"

یہ معبد یزیدی برادری کا مقدس ترین مقام تصور کیا جاتا ہے اور دوسری برسی کے موقع پر یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی۔

گو کہ سنجار اب کردوں کے کنٹرول میں ہے لیکن بہت سے یزیدی اب بھی اپنے گھروں کو واپس جانا محفوظ تصور نہیں کرتے۔ ہزاروں یزیدی بدستور عراق اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ملکوں میں پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔

XS
SM
MD
LG