رسائی کے لنکس

داعش سے قیدیوں کے تبادلے میں یزیدی خواتین اور بچے رہا


فائل فوٹو

فائل فوٹو

رہائی پانے والی ایک نوجوان یزیدی لڑکی کا کہنا تھا کہ سنجار پر دہشت گردوں کی یلغار کے بعد وہاں سے پورے پورے کنبے کو اغوا کیا جاتا رہا۔

شام میں اطلاعات کے مطابق رواں ہفتے شدت پسند گروپ داعش نے کرد فورسز کی قید سے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے بدلے 51 یزیدی خواتین اور بچوں کو رہا کیا ہے۔

داعش کی قید سے رہا کیے جانے والے افراد شمالی عراق کے علاقے سنجار پہنچے ہیں جہاں سے تقریباً 19 ماہ قبل عسکریت پسندوں نے انھیں اغوا کیا تھا۔

کرد نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے رہائی پانے والی ایک خواتون نے بتایا کہ "ہمیں تلعفر (عراق) میں نو ماہ تک رکھا گیا، پھر ہمیں شامل لے جایا گیا اور ہم وہاں تقریباً 11 ماہ رہے۔"

اقلیتی یزیدی فرقے کے لوگوں کی رہائی شام میں داعش اور کرد فورسز "وائے پی جی" کے مابین قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں ہوئی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس میں داعش کے دو مقید کمانڈروں کو رہا کیا گیا۔

وائس آف امریکہ کی طرف سے رابطہ کیے جانے پر وائے پی جی کے ترجمان نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

امریکہ کی حمایت یافتہ کرد فورسز شام میں دہشت گرد گروپ سے ماضی میں بھی قیدیوں کے تبادلے کرتی رہی ہیں۔

رہائی پانے والی ایک نوجوان یزیدی لڑکی کا کہنا تھا کہ سنجار پر دہشت گردوں کی یلغار کے بعد وہاں سے پورے پورے کنبے کو اغوا کیا جاتا رہا۔

"میرے خاندان اور مجھے داعش نے یرغمال بنا لیا۔ شام پہنچائے جانے کے بعد انھوں نے مردوں کو خواتین سے علیحدہ کر دیا۔"

اگست 2014ء میں سنجار پر حملہ کرنے کے بعد یہاں داعش نے یزیدوں کو یرغمال بنانے کے علاوہ ان کا قتل عام بھی کیا۔ اسی باعث بہت سے لوگ محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور بھی ہوئے۔

گزشتہ سال ہی امریکی اتحاد کی مدد سے کرد فورسز "پیش مرگہ نے سنجار کا قبضہ داعش سے چھڑوایا تھا۔

گزشتہ ہفتے ہی امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا تھا کہ داعش کی طرف سے عراق اور شام میں ڈھائے گئے مظالم نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG