رسائی کے لنکس

سال 2010: کراچی سے پشاور تک دھماکوں اورخودکش حملوں کی بازگشت


سال 2010: کراچی سے پشاور تک دھماکوں اورخودکش حملوں کی بازگشت

سال 2010: کراچی سے پشاور تک دھماکوں اورخودکش حملوں کی بازگشت

رواں سال، دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی ایسی تاریخ بن گیا ہے جس میں کراچی سے پشاور تک دھماکوں، بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ دھماکے کب کب ہوئے اور ان میں کتنے کتنے افراد ہلاک یا زخمی ہوئے اس کا تفصیلی جائزہ پیش ہے:

دس دسمبر: ضلع ہنگوکے زیر تعمیر اسپتال سے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی ٹکرانے کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔

آٹھ دسمبر: اورکزئی ایجنسی کے تیرہ بازار میں بس اسٹینڈ پر کھڑی بس میں دھماکے سے اٹھارہ افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوگئے۔

چھ دسمبر: فاٹا کی مہمند ایجنسی کے ہیڈکوارٹر غلانئی کے اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ کے دفتر کے باہر جرگے میں دو خودکش بم دھماکے میں 40 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوگئے۔

تیس نومبر: خیبر پختوانخواہ کے ضلع بنوں میں میلان چوک کے قریب پولیس وین پر خودکش حملے میں چھ افراد ہلاک ہوگئے جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا۔

ستائیس نومبر: خیبر پختونخواہ کے درہ آدم خیل سے لکی مروت جانے والی بس پر نامعلوم افراد کا حملہ، تین مسافر ہلاک ہوگئے۔

گیارہ نومبر:کراچی میں سی آئی ڈی ہیڈ آفس میں دھماکہ خیز مواد سے بھرے ٹرک کے ذریعے دھماکا، بیس افراد ہلاک، ایک سو زخمی ہوگئے۔

پانچ نومبر:عسکریت پسندوں کی جانب سے درہ آدم خیل اور پشاور کے قریب بڈھ پیر کی مسجد پر حملوں میں بالترتیب 68، اور 65افراد ہلاک اور 70، 70 زخمی ہوگئے۔

پچیس اکتوبر: پاک پتن میں خواجہ فرید کی درگاہ پر بم دھماکا، چھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ متعدد زخمی۔

سات اکتوبر: کراچی کی مشہور درگاہ عبداللہ شاہ غازی کے صدر دروازے پر دو خودکش دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور 65 زخمی ہوگئے۔

بارہ ستمبر: کرم ایجنسی میں ایک گاڑی سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکراگئی، کم ازکم 6 افراد ہلاک۔

نو ستمبر:کرم ایجنسی فاٹا کے گاوٴں پلاسین میں ایک گاڑی سڑک کے کنارے نصب بم سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوگئے۔

سات ستمبر: خیبر پختونخواہ کے شہر کوہاٹ کی پولیس کالونی میں خود کش حملے کے نتیجے میں 24افراد ہلاک جبکہ اٹھاسی زخمی ہوگئے۔

تین ستمبر: کوئٹہ میں یوم القدس کے حوالے سے منعقدہ ایک ریلی پہ خودکش حملہ کیا گیا جس میں 55 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوگئے۔

یکم ستمبر: لاہور میں ایک مذہبی جلوس میں ہونے والے بم دھماکے اور یکے بعد دیگرے دو خودکش حملوں میں 45 سے زائد افراد ہلاک اور 250 کے لگ بھگ زخمی ہوگئے۔

تئیس اگست: جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا کی ایک مسجد کے باہر ہونے والے ایک خودکش حملے میں سابق رکنِ قومی اسمبلی مولانا نور محمد سمیت 24 افراد ہلاک اور 25 دیگر زخمی ہوگئے۔ اسی روز کرم ایجنسی میں کیے جانے والے ایک بم حملے میں سات افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

چار اگست: پشاور میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری کے سربراہ صفوت غیور سمیت پانچ افراد ہلاک اور 12 زخمی ہوگئے۔

دو اگست: کراچی میں ایک حکومتی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے رکن صوبائی اسمبلی کو نامعلوم افراد نے قتل کردیا۔ واقعے کے بعد شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اور اگلے تین روز میں 80 سے زائد افراد مارے گئے۔

چوبیس جولائی: دہشت گردوں نے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے کو نوشہرہ میں فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ دو روز بعد، یعنی 26 جولائی کو مقتول کے سوئم کے موقع پر ان کی رہائش گاہ پہ خودکش حملہ کیا گیا جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے۔

سترہ جولائی: کرم ایجنسی سے پشاور جانے والے عام شہریوں کے قافلے پہ دہشت گردوں کے حملے میں 16 افراد ہلاک ہوگئے۔

سولہ جولائی: خیبر ایجنسی میں استعمال شدہ گاڑیوں کی فروخت کیلئے لگنے والے ہفتہ وار بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں 10 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔

نو جولائی: مہمند ایجنسی کے علاقے یکہ غنڈ میں ایک مقامی انتظامی اہلکار کے دفتر پہ کیے جانے والے خودکش حملے میں سو سے زائد افراد ہلاک اور 120 زخمی ہوگئے۔

یکم جولائی: لاہور میں واقع مشہور صوفی بزرگ حضرت داتا گنج بخش کے مزار پہ دو خودکش حملے کیے گئے جن میں 42 افراد ہلاک اور 180 سے زائد زخمی ہوگئے۔

چودہ جون: مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان نے حملہ کرکے سات سیکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کردیا جبکہ دس دیگر کو یرغمال بنا لیا۔

نو جون: نیٹو سپلائی لے جانے والے ایک قافلے پہ اسلام آباد کے قریب حملہ کیا گیا۔ واقعے میں سات افراد ہلاک ہوگئے جبکہ سامان سے لدے بیس سے زائد کنٹینرز کوآگ لگادی گئی۔

اکتیس مئی: لاہور کے ایک مصروف اسپتال پر دہشت گروں کے حملے میں آٹھ افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے۔ دہشت گردوں نے یہ حملہ اسپتال میں زیرِ علاج اپنے ایک زخمی ساتھی کو چھڑانے کیلیے کیا تھا تاہم وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔

اٹھائیس مئی: دہشت گردوں نے بیک وقت لاہور کے دوعلاقوں گڑھی شاہو اور ماڈل ٹاؤن میں واقع احمدی مذہب کی دو عبادت گاہوں پہ حملہ کرکے سینکڑوں افراد کو یرغمال بنالیا۔ بعد ازاں کئی گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپ کے بعد دونوں جگہوں کو دہشت گردوں سے خالی کرالیا گیا تاہم واقعہ میں 95 افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے۔

بیس مئی: کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور فسادات میں 23 افراد مارے گئے۔

اٹھارہ مئی: ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک پولیس تھانے کے باہر کھڑی موٹرسائیکل میں نصب بم پھٹنے سے 12 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔

تئیس اپریل: شمالی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں ایک سیکیورٹی کانوائے پہ ہونے والے حملے میں سات سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور 15 زخمی ہوگئے۔

انیس اپریل: کوہاٹ میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دو خودکش حملوں میں 23 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔

سولہ اپریل: کوئٹہ کے ایک اسپتال میں ہونے والے بم دھماکے میں 10 افراد ہلاک اور 35 دیگر زخمی ہوگئے۔

پانچ اپریل: لوئر دیر کے علاقے میں منعقدہ عوامی نیشنل پارٹی کی ایک ریلی پہ ہونے والے خودکش حملے میں 43 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہوگئے۔ اسی روز پشاور میں دہشت گردوں کی جانب سے امریکی قونصلیٹ پہ حملہ کیا گیا جس میں سات افراد ہلاک ہوئے۔

اکتیس مارچ: خیبر ایجنسی میں ایک حملے میں 6 پاکستانی فوجی ہلاک اور 15 دیگر زخمی ہوئے۔

تیرہ مارچ: ضلع سوات کے صدر مقام مینگورہ میں ایک رکشہ سوار خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ واقعے میں 10 افراد ہلاک اور 37 زخمی ہوئے۔

بارہ مارچ: لاہور کے ایک مصروف علاقے میں پاکستانی فوج کے ایک قافلے پہ کیے جانے والے یکے بعد دیگرے دو خودکش حملوں میں45 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں اسی شام شہر کے مختلف علاقوں میں کئی چھوٹے دھماکے بھی ہوئے تاہم ان سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دس مارچ: اسلام آباد میں واقع ایک عالمی امدادی ادارے کے دفتر پہ دہشت گردوں کے حملے میں غیر ملکیوں سمیت چھ افراد ہلاک جبکہ سات دیگر زخمی ہوئے۔

آٹھ مارچ: پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں ایک حساس ادارے کے دفتر پہ ہونے والے خودکش حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کی شدت سے حساس ادارے کے دفتر کی عمارت زمیں بوس ہوگئی۔

پانچ مارچ: صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے ہنگو سے کرم ایجنسی جانے والے ایک سیکیورٹی قافلہ پہ خودکش حملہ کیا گیا جس میں 12 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوگئے۔

اٹھارہ فروری: خیبر ایجنسی کے ایک بازار میں ہونے والے بم دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوگئے۔

دس فروری: خیبر ایجنسی میں ایک سیکیورٹی پیٹرول ٹیم پہ ہونے والے خودکش حملے میں 13 پولیس اہلکاروں سمیت 19 افراد ہلاک ہوگئے۔ اسی روز ایجنسی میں وادی تیرہ کے مقام پہ فوج کی ایک ٹیم پہ گھات لگا کر حملہ کیا گیا جس میں ایک بریگیڈیئر سمیت تین اہلکار ہلاک ہوگئے۔

پانچ فروری: کراچی میں ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کیلئے جانے والے شیعہ زائرین کی بس سے ایک موٹر سائیکل سوار خودکش حملہ آور ٹکرا گیا۔ واقعے میں 12 افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوگئے۔ ہلاک شدگان اور زخمیوں کو شہر کے جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں کچھ ہی دیر بعد ایمرجنسی وارڈ کے باہر پارکنگ میں نصب ایک بم پھٹنے سے مزید 13 افراد ہلاک ہوگئے۔ ایمرجنسی وارڈ میں نصب دوسرے بم کو بعد ازاں ناکارہ بنادیا گیا۔

تین فروری: صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع لوئر دیر کے ایک نواحی علاقے میں ایک اسکول میں جاری تقریب پہ اس وقت خودکش حملہ کیا گیا جب علاقہ میں پاکستانی فوج کے انچارج افسر تقریب میں شرکت کیلیے پہنچے تھے۔ دھماکے میں تین کم سن طالبات سمیت دس افراد جاں بحق ہوگئے جن میں کم از کم تین امریکی سیکیورٹی آفیشل بھی شامل تھے جو پاکستانی پیراملٹری دستوں کی ٹریننگ کی غرض سے علاقے میں موجود تھے۔ دھماکے میں 63 طالبات سمیت کم ازکم 70 افراد زخمی بھی ہوئے۔

یکم فروری: پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی شہہ رگ کراچی میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور فسادات میں ایک ہی دن میں 26 افراد ہلاک ہوگئے۔

تیس جنوری: پاکستانی وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار میں ہونے والے ایک خودکش حملے میں 16 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئے۔

چھ جنوری: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک فوجی بیرک کے باہر ہونے والے دھماکے میں تین پاکستانی فوجی ہلاک اور 11 دیگر زخمی ہوگئے۔

یکم جنوری : سال کے پہلے ہی دن ایک خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر لکی مروت کے ایک نواحی قصبے کے گراؤنڈ میں جاری والی بال کا میچ دیکھنے میں مصروف دیہاتیوں کے مجمع سے ٹکرادی۔ واقعے میں 105 افراد ہلاک ہوگئے۔

XS
SM
MD
LG