رسائی کے لنکس

2016ء خواتین کے لیے مشکل لیکن نسبتاً بہتر سال رہا: مبصرین


فائل فوٹو

خاور ممتاز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ رواں سال خواتین پر تشدد کے جو واقعات رونما ہوئے وہ اب بھی تشویشناک بات ہے اور اب ان قوانین کے اطلاق پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ختم ہونے والا سال 2016ء پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کے نزدیک گزشتہ برسوں کی نسبت اس لحاظ سے قدرے بہتر رہا کہ اس میں نہ صرف خواتین کے تحفظ کے لیے نئے قوانین بنائے گئے بلکہ تحفظ حقوق نسواں کی بابت ماضی کی نسبت زیادہ کھل کر باتیں کی گئیں۔

لیکن ان سب کے باوجود اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں پاکستانی خواتین مختلف چیلنجوں سے نبرد آزما ہیں اور انھیں کہیں نہ کہیں امتیازی سلوک، گھریلو تشدد، جنسی زیادتی اور غیرت کے نام پر جان سے جانے کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

رواں سال اکتوبر میں حکومت نے غیرت کے نام پر قتل اور جنسی زیادتی کے خلاف نئے قوانین متعارف کروائے جسے حقوق نسواں کے کارکنان ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہیں۔

نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن خاور ممتاز کہتی ہیں کہ ان قوانین کی منظوری سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ بالآخر ریاست نے غیرت کے نام پر قتل کو حقوق کی خلاف ورزی تسلیم کرتے ہوئے اس کے تدارک کے لیے قدم بڑھایا ہے۔

تاہم وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ رواں سال خواتین پر تشدد کے جو واقعات رونما ہوئے وہ اب بھی تشویشناک بات ہے اور اب ان قوانین کے اطلاق پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

"ایک طرف تو بہت سی منفی چیزیں ہیں جو پہلے کی طرح چل رہی ہیں لیکن ساتھ ساتھ مثبت بھی ہیں کوئی چیز ایک ساتھ تو ہوتی نہیں معاشرے میں۔ اچھائیاں برائیاں ساتھ ساتھ چلتی ہیں، لیکن اچھائیاں بھی ہوئی ہیں۔"

انسانی حقوق اور حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق گزشتہ سال پاکستان میں 1100 کے لگ بھگ خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں جب کہ اس سال کے اعدادوشمار ابھی پوری طرح سے جمع کیے جا رہے ہیں۔

اس سال غیرت کے نام پر قتل کے خلاف منظور ہونے والے قانون سے قبل جولائی میں نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون دنیا کی بھرپور توجہ اس گھناؤنے جرم کی طرف اس وقت گئی جب سوشل میڈیا پر اپنے بے باک اور متنازع وڈیو اور بیانات کے باعث شہرت پانے والی ماڈل قندیل بلوچ کو مبینہ طور پر ان کے بھائی نے قتل کر دیا تھا۔

قندیل بلوچ (فائل فوٹو)

قندیل بلوچ (فائل فوٹو)

عورت فاؤنڈیشن کے عہدیدار نعیم مرزا کے خیال میں قانون سازی اپنی جگہ لیکن خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات خاصی بڑی تعداد میں رونما ہوئے جو کہ ایک فکر انگیز بات ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ خواتین کی سوچ کے انداز میں ماضی کی نسبت تبدیلی کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں میں ان کی ترقی کی رفتار بڑھی ہے لیکن اب بھی ایسے عناصر ہیں جو شاید ایک بے بنیاد خوف کی وجہ سے خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتے آ رہے ہیں۔

"ہم دیکھتے ہیں کہ ان (خواتین) کی ترقی کی مخالف قوتیں جو ہیں وہ زیادہ پرتشدد ہو گئی ہیں۔۔۔سماجی سطح پر تعلیمی میدان میں جو بھی لڑکیوں نے کامیابیاں حاصل کی ہیں اس کے مقابلے میں اس کی مزاحمت بھی بڑھی ہے اور وہ پرتشدد ہے۔ وہ شاید ان قوتوں سے برداشت نہیں ہو رہا جنہوں نے دل سے تسلیم نہیں کیا یا جن کے دل میں خوف ہے کہ عورتیں ان پر حاوی ہو جائیں گی حالانکہ یہ خوف بے بنیاد ہے۔"

نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن خاور ممتاز نے اس سال خواتین میں ایک مثبت رجحان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اپنے خلاف ہونے والی زیادتیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خود ہی قانونی راستہ اختیار کرنے لگی ہیں۔

"کمیشن نے ایک مطالعہ کروایا۔۔۔اب بہت زیادہ کیس سامنے آئے ہیں کہ اب خواتین ایف آئی آر کٹانے خود تھانے جاتی ہیں۔ پہلے ان کا انحصار ہوتا تھا گھر والوں پر اگر ان کی مرضی ہوئی تو جائیں گی اب یہ عورتیں خود جاتی ہیں اور یہ مثبت رجحان ہے کہ اپنے بارے میں خود ایکشن لینا بڑی بات ہے ہمارے جیسے معاشرے میں۔"

مبصرین کا کہنا تھا کہ قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ خواتین سے متعلق منفی سماجی رویوں کو تبدیل کرنے کے لیے بھی ہر طبقے کو اپنی اپنی جگہ غوروفکر کرتے ہوئے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

XS
SM
MD
LG