رسائی کے لنکس

اسکاٹ ’چارلسٹن شوٹنگ‘ میں ہلاک ہونے والے تمام نو افراد کو جانتی تھیں۔ بقول اُن کے، وہ دِن اور آج کا دِن، ذہن سے یہ اذیت ناک واقعہ اوجھل نہیں ہوتا۔ اور پھر، فلوریڈا کے شہر، اورلینڈو کے ’گے نائٹ کلب‘ میں ہونے والے قتل ِعام کے واقعے کے بعد، چارلسٹن کی یاد تازہ ہوگئی ہے

اُسے چوکنہ کرنے والا سانحہ قرار دیا جا رہا تھا کہ نسلی تقسیم کا مداویٰ کرنے کے لیے امریکہ کیا کچھ کر سکتا ہے۔ یہ ماضی کے تلخ تجربات کا تجزیہ کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے مل کر کام کرنے کا ایک چیلنج تھا۔

ساؤتھ کیرولینا کے شہر چارلسٹن کی ایک ’امانوئیل اے ایم اِی چرچ‘ میں ’پریئر‘ کے دوران نو ارکان کے ظالمانہ قتل کے المناک واقع کے بعد درستگی کے لیے قدرت نے ایک موقعہ فراہم کیا تھا۔ یہ افریقی امریکیوں کے قدیمی گرجا گھر میں جاری دینی اجتماع تھا۔

گرجا گھر کے قتلِ عام کا ذکر کرتے ہوئے، جسے جمعے کے روز ایک سال بیت گیا، چارلسٹن کے کئی لوگ پریشانی کا اظہار کر رہے ہیں، آیا نسلی تعلقات میں کوئی بہتری آئی ہے؟

لیمنٹس ڈوٹ اسکاٹس ’نیشنل ایسو سی ایشن فور دی ایڈواسنسمنٹ آف کلرڈ پیپل (این اے اے سی پی) کی چارلسٹن شاخ کی سربراہ ہیں۔ بقول اُن کے، ’’یقینی طور پر ایسا لگتا ہے کہ صورتِ حال بدتر ہوتی جا رہی ہے‘‘۔

اسکاٹ تمام ہلاک شدگان کو جانتی تھیں۔ بقول اُن کے، وہ دِن اور آج کا دِن، ذہن سے یہ اذیت ناک واقعہ اوجھل نہیں ہوتا۔

فلوریڈا کے شہر، اورلینڈو کے ’گے نائٹ کلب‘ میں ہونے والے قتل ِعام کے واقعے کے بعد، چارلسٹن کی یاد تازہ ہوگئی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ باتیں آپ کو یاد دلاتی ہیں کہ یہ معاملہ تھما نہیں۔ آیا معاملہ چرچ کا ہو یا کسی سماجی اجتماع کا۔ یہ اِس بات کی یاددہانی کراتا ہےکہ ہم کہیں بھی ہوں، لیکن ہم کتنے غیر محفوظ ہیں، جب کہ ہم اپنے آپ کو محفوظ خیال کرتے ہیں‘‘۔

اتحاد کا مظاہرہ

شوٹنگ کے فوری بعد، کچھ یوں لگا جیسے پیش رفت ہو رہی ہے، چاہے علامتی ہی سہی۔

تصاویر میں دکھایا گیا تھا کہ اسلحہ بردار ملزم، سفید فام بالادستی میں یقین رکھنے والا، ڈلین روف کنفیڈریٹ لڑائی کا پرچم تھامے کھڑا ہے، جس پر قومی تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا اور پرچم پر بحث چھڑ گئی تھی۔۔۔ جو نسل پرستی اور غلامی کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔ شور اور ہنگاموں کے نتیجے میں جنوبی کیرولینا کے دارالحکومت کے احاطے سے ’کنفیڈریٹ فلیگ‘ کو ہٹا دیا گھا۔ بالآخر، اِسے سارے جنوب کے دیگر پبلک مقامات سے بھی ہٹایا گیا۔

گذشتہ برس، ہلاک شدگان کی یاد میں خراج عقیدت کی ایک محفل سے صدر براک اوباما نے خطاب کیا، جس میں اُنھوں نے کہا کہ ملزم نسلی لڑائی کا اشتعال دلانے کے اپنے عزائم میں ناکام رہا ہے۔ برعکس اِس کے، اِس معاملے پر ملک میں ایک غیر معمولی اظہارِ یکجہتی پیدا ہوا۔

اپنے کلمات میں، صدر اوباما نے کہا ہے کہ ’’ہو سکتا ہے ہمیں سمجھ آگئی ہو کہ نسلی تعصب ہمارے اوپر کس طرح حاوی ہو جاتا ہے، حالانکہ ہم اس کا شعور نہیں بھی رکھتے‘‘۔ اُنھوں نے

Amazing Grace کی حمد پڑھی، جس ثنا خوانی نے اجتماع میں جوش و ولولہ پیدا کیا۔

اوباما کے عہدہٴ صدارت کا یہ ایک جذباتی پہلو کا ایک متاثر کُن مظاہرہ تھا۔ تاہم، یوں لگتا ہے کہ چارلسٹن کے بعد منظر پر نمودار ہونے والا اتحاد دیرپہ ثابت نہیں ہوا۔

منقسم سوچ

گذشتہ سال جون میں ہونے والے شوٹنگ کے اِس واقعے کے بعد امریکی خبروں میں تنازعات کا عنصر غالب رہا ہے، جب کہ یہ تنازعات ری پبلیکن پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کے کبھی کبھار کے بیانات کے گرد گھومتے رہے ہیں، جن سے نسلی امتیاز کا سا تاثر ملتا ہے۔

ایسےمیں جب وہ نامزدگی کے قریب پہنچے، ٹرمپ میکسیکو کے تارکینِ وطن کو الگ کر چکے تھے، مسلمان امریکیوں کے خلاف اجتماعی سزا کی دھمکیاں دے چکے ہیں، اپاہج حضرات کا مذاق اڑا چکے ہیں، جب کہ اُنھوں نے ’کو کلکس کلان‘ کے سابق رہنما، ڈیوڈ ڈیوک کے خیالات کو ناپسند کرنے سے متعلق سوال کا جواب تک دینا پسند نہیں کیا۔

حالیہ دِنوں کے دوران، ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں پیدا ہونے والے میکسیکو نژاد جج اُن کا کام نہیں کرسکتے، چونکہ اُن کا تعلق میکسیکو سے ہے۔ اُنھوں نے اورلینڈو کے مسلح حملہ آور کی مثال دیتے ہوئے مسلمانوں کی امریکہ میں آمد پر بندش کے اپنے غیر معمولی مطالبے کو دہرایا، حالانکہ حملہ آور نیویارک میں پیدا ہوا تھا۔

XS
SM
MD
LG