رسائی کے لنکس

شام میں صحافیوں کی ہلاکت میں آنے والی کمی کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ملک میں فرائض دینے والے صحافیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔۔ جب کہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے ملک میں نامہ نگار نہ بھیجنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، جب کہ مقامی صحافی ملک بدر ہو کر جلاوطنی کی زندگی بسر کر رہے ہیں

کمیٹی ٹو پراٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کا کہنا ہے کہ 2015ءدنیا بھر کے کارکن صحافیوں کے لیے مہلک ترین سال ثابت ہوا، جس دوران پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران 69 صحافی ہلاک ہوئے۔

سی پی جے کے مطابق، سال 2015 گذشتہ دس برسوں کے مقابلے میں (اور 1992ء کے بعد آٹھواں برس ہے) جب 60 سے زیادہ صحافی پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے۔ اعداد کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں وہ صحافی بھی شامل ہیں جو میدانِ جنگ، گولیوں کے تبادلے کے واقعات کی زد میں آکر یا اُن مقامات پر ڈیوٹی دیتے ہوئے ہلاک ہوئے جنھیں ’خطرناک‘ خیال کیا جاتا ہے۔

متواتر چار برسوں کے دوران، شام میں ہلاک ہونے والے صحافیوں کی تعداد زیادہ رہی، جو تعداد 13 ہے، جو کہ گذشتہ سالوں کے دوران کم ہو رہا ہے؛ سنہ 2012ء میں شام میں 31 صحافی ہلاک ہوئے، جب کہ 2013ء اور 2014ء میں بالترتیب یہ تعداد 29 اور 17 تھی۔

تاہم، صرف شمار سے کہانی کا مکمل نقشہ ذہن میں نہیں آتا۔ سی پی جے نے خبر دی ہے کہ شام میں صحافیوں کی اموات میں آنے والی کمی کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں فرائض دینے والے صحافیوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔۔ جب کہ بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے ملک میں نامہ نگار نہ بھیجنے کا فیصلہ کر رکھا ہے، جب کہ مقامی صحافی ملک بدر ہو کر جلاوطن زندگی بسر کر رہے ہیں۔

علاوہ ازیں، خطے میں صحافیوں کے خلاف مقدمات درج ہیں، جن میں صحافیوں کو لاپتا دکھایا گیا ہے یا پھر جن کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہو پائی۔

سی پی جے کی سربراہ، کورٹنی ریڈش نے اسکائپ انٹرویو میں بتایا ہے کہ ’عراق اور شام جیسے ملکوں میں صحافیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں چھان بین چیلنج سے کم نہیں، جہاں تشدد کی اس سطح کی کارروائیاں جاری ہیں جب کہ اطلاعات موصول نہ ہونے کے برابر ہیں‘۔

عراق کے شہر موصل میں، سی پی جے نے 35 مقدمات کی چھان بین کی ہے جو یا تو لاپتا ہیں، یا ہلاک ہو چکے ہیں یا پھر مبینہ طور پر داعش کے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ تاہم، سی پی جے ’مٹھی بھر‘ تعداد کی ہی تصدیق کرتا ہے۔

فہرست میں فرانس بھی شامل

سال 2015میں ہلاک ہونے والے 69 صحافیوں میں سے 28، یعنی اندازاً 40 فی صد اسلامی شدت پسند گروہوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے، جن میں دولت اسلامیہ اور القاعدہ شامل ہیں۔ اِن میں سے نو فرانس میں ہلاک ہوئے، آٹھ اُس وقت جب سات جنوری کو مزاحیہ رسالے، ’چارلی ہیبڈو‘ کے دفتر پر حملہ کیا گیا، اور 43 برس کے فری لانس صحافی، غلام بی شریف شامل تھے، جو پیرس کے بکلان تھیٹر میں منعقدہ محفلِ موسیقی کی رپورٹنگ کر رہے تھے، جب مسلح افراد نے 13 نومبر کو حملہ کیا۔

ریڈش نے بتایا کہ ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے باوجود، جس کے باعث اب زیادہ لوگ صحافت سے وابستہ ہیں، یہ شعبہ چند نامور اور پیشہ ور صحافیوں کے نام سے چلتا ہے، جس کی مثال چارلی ہیبڈو کارٹونسٹ ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ اب تو صحافیوں کو اپنے نیوز روم میں بھی خطرہ لاحق ہے، یا وہ جہاں پر بھی موجود ہوں خطرے میں رہتے ہیں۔

ریڈش کے الفاظ میں، ’وہ خطرے کی لائن کی زد میں رہتے ہیں، وہ سماجی حدوں کو چھوتے ہیں۔ ہمیں یہ بات بھی تسلیم کرنی ہوگی کہ اِن حملوں کا رد عمل بھی صحافیوں کو خطرے میں ڈال دیتا ہے‘۔

عالمی سطح پر، ’سی پی جے‘ نے انکشاف کیا ہے کہ دو تہائی سے زائد صحافی اُس وقت ہلاک ہوئے جب اُنھیں قتل کا نشانہ بنایا گیا، جس کی وجہ اُن کا پیشہ ورانہ کام بنا، جن اعداد و شمار کے بارے میں تنظیم کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر اُنھیں خطرے کی لکیر سمجھا جاتا ہے، لیکن پچھلے پانچ برس کے مقابلے میں یہ تناسب زیادہ ہے۔

سنسر شپ

عالمی سطح پر آزادی صحافت کے بارے میں عام رائے کا حوالہ دیتے ہوئے، ’سی پی جے‘ کی سربراہ نے کہا ہے کہ ’وہ دباؤ کا شکار ہے‘۔

ایک علیحدہ رپورٹ میں، ’سی پی جے‘ نے کہا ہے کہ متعدد ملک، جن میں ایران اور مصر شامل ہیں، صحافی ہلاک نہیں ہو رہے۔ لیکن، اُنھیں قید جھیلنا پڑتا ہے، جو اقدام سینسرشپ کی خوفناک سطح میں بدل جاتا ہے۔

سال 2015کی اضافی باتوں کے بارے میں، ’سی پی جے‘ نے خبر دی ہے کہ ہلاک کیے جانے سے قبل کم از کم 28 صحافیوں کو قتل کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔ اِس ضمن میں، وہ جِن ’بیٹس‘ کی رپورٹنگ پر مامور تھے وہ تھیں سیاست، لڑائی اور انسانی حقوق۔

XS
SM
MD
LG