رسائی کے لنکس

یمن میں اقتدار کی منتقلی ایک بار پھر ڈانو اڈول


یمن میں اقتدار کی منتقلی ایک بار پھر ڈانو اڈول

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح خلیجی ریاستوں کی مدد سے طے پانے والے اُس سمجھوتے پر دستخط کرنے سے بظاہر پیچھے ہٹ رہے ہیں جس کے تحت وہ ایک ماہ کے اندر اقتدارمنتقل کرنے کے پابند ہوں گے۔

اقتدار کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کے لیے وقت مقررہ سے محض چند گھنٹے قبل اتوارکو اپنے بیان میں اُن کا کہنا تھا کہ ” بند دروازوں کے پیچھے“ کسی معاہدے پر دستخط کرنے میں اُنھیں کوئی دلچسپی نہیں۔

یمن کے صدر کی طرف سے اعتراضات کے باعث دو مرتبہ اس معاہدے پردستخط کا معاملہ تاخیر کا شکار ہوچکا ہے۔

ملک کی حزب اختلاف نے یہ سوچ کر ایک روز قبل سمجھوتے پر دستخط کیے تھے کہ صدر صالح اتوار کو اس پر اپنے دستخط کردیں گے۔

اتوار کو دارالحکومت صنعا کے مرکزی چوک میں ایک بار پھر ہزاروں افراد جمع ہوئے ۔ شہر کا یہ علاقہ حزب اختلاف کے احتجاجی مظاہروں کا مرکز بن چکا ہے۔ دریں اثناء صدر صالح کے حامیوں نے اقتدار کی منتقلی کے معاہدے کے خلاف احتجاجاََ سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردیں۔

اس سمجھوتے میں صدر صالح کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے بشرطیکہ وہ 30 دن کے اندر اقتدار اپنے ایک نائب کو منتقل کردیں۔

ہفتہ کو ایک تقریر میں یمن کے صدر نے امریکہ کی حمایت یافتہ تجویز کو اپنے خلاف بغاوت قرار دے کر اس کی مذمت کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اُن کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد یمن کے بعض حصوں پر القاعدہ کو قبضہ کرنے کا موقع ملے گا۔

صدر صالح کے 30 سالہ اقتدار کے خلاف یمن میں گذشتہ کئی ماہ سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور مظاہرین اُن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔لیکن حکومت نے ان مظاہروں کی حوصلہ شکنی کے لیے بھرپور طاقت کا استعمال کیا ہے جو بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا باعث بنی ہے۔

XS
SM
MD
LG