رسائی کے لنکس

یمن میں جنازے پر فضائی حملے کی وجہ 'غلط معلومات' تھیں


حملے کا نشانہ بننے والا ہال

حملے کا نشانہ بننے والا ہال

بیان میں کہا گیا کہ فریق مُصر تھا کہ یہ جگہ "جائز طور پر عسکری ہدف ہے"۔ مزید برآں یمن میں موجود اتحادی فضائی سنٹر نے اتحادی کمان سے منظوری کے بغیر ہی اس کارروائی کی اجازت دے دی تھی۔

سعودی عرب کی زیر قیادت اتحاد کی قائم کردہ تحقیقاتی ٹیم نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے یمن میں ایک جنازے پر ہونے والا فضائی حملہ غلط معلومات کی بنیاد پر کیا گیا۔

دارالحکومت صنعاء میں ہونے والے اس حملے میں 104 کے لگ بھگ افراد ہلاک اور 600 سے زائد زخمی ہوگئے تھے اور واقعے کی عالمی سطح پر مذمت کے علاوہ اس کا الزام سعودی عرب پر عائد کیا گیا تھا جو گزشتہ سال سے یہاں بین الاقوامی حمایت یافتہ حکومت کے مخالف شیعہ حوثی باغیوں کے خلاف عسکری مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔

سعودی عرب نے اس الزام کو پہلے مسترد کر دیا تھا اور واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

ہفتہ کو تحقیقاتی ٹیم کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا کہ مبینہ طور پر "یمنی ایوان صدر کے جنرل چیف آف اسٹاف سے منسلک فریق نے غلط معلومات فراہم کی تھی کہ اس جگہ پر حوثی راہنماؤں کی ایک بڑی تعداد جمع ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فریق مُصر تھا کہ یہ جگہ "جائز طور پر عسکری ہدف ہے"۔ مزید برآں یمن میں موجود اتحادی فضائی سنٹر نے اتحادی کمان سے منظوری کے بغیر ہی اس کارروائی کی اجازت دے دی تھی۔

تحقیقاتی کمیٹی نے اس حملے میں مرنے والوں کے لواحقین کو زر تلافی دینے کی بھی سفارش کی ہے۔

اس حملے کے بعد امریکہ نے بھی کہا تھا کہ وہ یمن میں اتحادیوں کی کارروائیوں کے لیے اپنی حمایت پر دوبارہ غور کرے گا۔

XS
SM
MD
LG