رسائی کے لنکس

یمن: امریکی فضائی حملہ، القاعدہ کا چوٹی کا سرغنہ ہلاک


فائل

فائل

عنسی نے جنوری میں جزیرہ نما عربستان میں القاعدہ (اے کیو اے پی)کی جانب سے ’چارلی ہیبڈو‘ رسالے پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس نے مذہب اسلام کا مذاق اڑاتے ہوئے خاکے شائع کیے تھے

یمن میں القاعدہ کی شاخ کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ کیے گئے ایک امریکی فضائی حملے میں اُس کا چوٹی کا ایک سرغنہ ہلاک ہوا۔

’سائٹ انٹیلی جنس گروپ‘ نے جمعرات کے روز اطلاع دی ہے کہ القاعدہ کی اس شاخ نے بتایا ہے کہ یمن کی بندرگاہ والے شہر، مکلہ میں ہونے والی امریکہ کی اس فضائی کارروائی میں نصیر بن علی العنسی، اُن کا سب سے بڑا بیٹا اور متعدد دیگر شدت پسند ہلاک ہوئے۔

عنسی نے جنوری میں جزیرہ نما عربستان میں القاعدہ (اے کیو اے پی)کی جانب سے ’چارلی ہیبڈو‘ رسالے پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس نے مذہب اسلام کا مذاق اڑاتے ہوئے خاکے شائع کیے تھے۔

پینٹاگان کی بریفنگ کے دوران، امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹن نے کوئی تبصرہ کرنے سے معذرت کی۔

بقول اُن کے، ’یقینی طور پر ہم ایسے معاملات پر بیان نہیں دیا کرتے، خاص طور پر اس پوڈیم سے۔ یمن میں ’اے کیو ایم پی‘ کے بارے میں۔ ہم وہاں دباؤ جاری رکھے ہوئے ہیں‘۔

امریکہ اکثر و بیشتر یمن میں القاعدہ کے دہشت گردوں کے خلاف بغیر پائلٹ کے ڈرونز کی مدد سے فضائی حملے کرتا رہتا ہے۔ تاہم، حوثی باغیوں کی پیش قدمی کے باعث گذشتہ ماہ امریکہ نے یمنی ہوائی اڈے سے عملہ واپس بلا لیا تھا۔

چارلی ہینڈو حملے میں 12 افراد ہلاک ہوتے تھے، جس میں صحافی بھی شامل تھے جنھوں نے پیغمبر اسلام کے خاکے بنائے تھے، جس پر ترجمان کی حیثیت سے عنسی نے ذمہ داری قبول کی تھی۔

مسلح افراد نے یہودی سپر مارکیٹ کے اندر برغمالیوں کو بھی ہلاک کر دیا تھا، جس کے بعد پولیس نے اُنھیں مار دیا تھا۔

عنسی القاعدہ کی دیگر وڈیوز میں بھی آتے رہے ہیں، جن میں وہ مغربی لوگوں کے خلاف حملوں پر اکساتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG