رسائی کے لنکس

یمن میں منگل سے جنگ بندی شروع: سعودی اتحاد


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اس سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے مذاکرات اور جنگ بندی کی دو کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جس سے ملک میں شدید انسانی بحران اور انتشار پیدا ہو گیا ہے۔

سعودی اتحاد نے کہا ہے کہ منگل کو مقامی وقت کے مطابق بارہ بجے دوپہر یمن میں جنگ بندی کا آغاز ہو جائے گا۔

منگل کو ہی ملک میں نو ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مذاکرات شروع ہو رہے ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق اتحادی افواج نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’اتحادی افواج کی کمان کسی خلاف ورزی کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہوئے صنعا کے وقت کے مطابق بارہ بجے دوپہر جنگ بندی کا اعلان کر رہی ہے۔‘‘

بیان میں کہا گیا کہ ’’15 سے 21 دسمبر تک سات دن کے لیے جنگ بندی کے ساتھ ہی مشاورت شروع کر دی گئی ہے اور دوسری جانب سے جنگ بندی پر اتفاق کی صورت میں اس میں خود بخود توسیع ہو جائے گی۔‘‘

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے درمیان جنگ کے دوران لگ بھگ چھ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے مذاکرات اور جنگ بندی کی دو کوششیں ناکام ہو چکی ہیں جس سے ملک میں شدید انسانی بحران اور انتشار پیدا ہو گیا ہے۔

اتحاد نے مارچ میں حوثی باغیوں کی جنوب کی طرف پیش قدمی کو روکنے کے لیے فوجی کارروائی شروع کی تھی۔ گزشتہ سال حوثیوں نے ملک کے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا تھا۔ حوثیوں کا مؤقف ہے کہ سعودی اتحاد کی طرف سے یمن میں کی گئی کارروائی جارحیت ہے۔

سعودی کارروائی سے یمن کے صدر عبدالربہ منصور ہادی کے اقتدار کی بحالی کی کوئی امید پیدا نہیں ہوئی۔ جنگ میں تعطل اور یمن میں داعش کی آمد سے ممکن ہے کہ طرفین اس بات پر قائل ہو جائیں کہ امن معاہدہ جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ ہے۔

XS
SM
MD
LG