رسائی کے لنکس

یونیسف نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مارچ سے حوثی باغیوں اور سعودی زیر قیادت اتحاد کے درمیان جاری لڑائی میں اب تک لگ بھگ 400 بچے ہلاک اور 600 زخمی ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال نے کہا ہے کہ یمن میں چار ماہ سے جاری تنازع سے جہاں انسانی المیہ کے خدشات نے جنم لیا ہے وہیں یہاں بچوں اور نوجوانوں کے لیے صورتحال مشکل ترین ہوتی جا رہی ہے۔

یونیسف کی اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ مارچ میں حوثی باغیوں اور سعودی زیر قیادت اتحاد کے درمیان جاری لڑائی میں اب تک لگ بھگ 400 بچے ہلاک اور 600 زخمی ہو چکے ہیں۔

عرب دنیا کے اس پسماندہ ترین ملک کے رہنے والوں کو خوراک، پینے کے صاف پانی اور صحت عامہ کی شدید کم یابی کا سامنا ہے۔ بہت سے لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جب کہ بچوں کی ایک قابل ذکر تعداد اسکول نہیں جا پا رہی۔

یونیسف کے مطابق ایک کروڑ بچوں کو ہنگامی طور پر امداد کی ضرورت ہے۔

ایک اور غیر سرکاری تنظیم 'سیوو دی چلڈرن' کئی دہائیوں سے یمن میں اپنی امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ فضائی حملوں اور زمینی لڑائی کی وجہ سے بچے ذہنی طور پر خوف کا شکار ہیں جب کہ بہت سے بچے اپنے خاندان کے افراد کو کھونے کے بعد بے سروسامانی کے عالم میں بھی ہیں۔

اس تنظیم کے ایک عہدیدار مارک کائے نے دارالحکومت صنعاء سے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہاں فوری طور پر جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

"ہم چاہتے ہیں کہ تمام فریقین لڑائی روکیں تاکہ ان علاقوں تک ہماری رسائی ہو سکے جہاں ابھی پہنچنا مشکل ہے، ہم ان بچوں کو تلاش کرنا چاہتے ہیں ان کے خاندانوں کو بھی جنہیں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فوری ضرورت ہے۔"

انھوں نے متنبہ کیا کہ یمن میں متعدد علاقے قحط جیسی صورتحال کے بہت قریب ہیں۔

XS
SM
MD
LG