رسائی کے لنکس

یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی زیر قیادت اتحاد کی فضائی کارروئیوں میں میں درجنوں افراد ہلاک ہو گئے جب کہ بین الاقوامی حمایت یافتہ یمنی صدر نے اقوام متحدہ کی طرف سے ملک میں امن کا ایک مجوزہ منصوبہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی برائے یمن اسماعیل ولد شیخ احمد کی طرف سے پیش کردہ اس منصوبے کی تفصیلات تو سامنے نہیں آئی ہیں لیکن بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کے مطابق اس منصوبے میں موجودہ صدر منصور ہادی کو ہٹا کر ایک نئی حکومت بنانے کی تجوزیر بھی شامل ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کا کہنا ہے کہ سعودی دارالحکومت میں یمنی صدر کے حوالے کیے گئے مجوزہ منصوبے کو انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

دریں اثناء عینی شاہدین نے بتایا کہ مغربی شہر تعز میں فضائی حملوں کے دوران کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس علاقے میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

ان حملوں کے چند گھنٹوں بعد باغیوں کے زیر تسلط ساحلی شہر الحدیدہ میں لڑاکا طیاروں نے ایک سکیورٹی ہیڈکوارٹر پر حملے کیے جس میں قیدیوں اور سکیورٹی فورسز سمیت کم ازکم 40 افراد مارے گئے۔

ان حملوں اور ہلاکتوں سے متعلق تفصیلات تاحال مبہم ہیں۔ طبی عملے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی لیکن زخمیوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

یمن میں حوثی باغی سالوں سے اپنے ساتھ حکومت کی طرف سے روا رکھے جانے والے امتیازی سلوک کی شکایت کرتے آ رہے تھے اور 2014ء میں انھوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر لیا اور ملک میں خانہ جنگی کی سی صورتحال پیدا ہوگئی۔

مارچ 2015ء میں سعودی عرب نے یمنی حکومت کی حمایت میں یہاں فضائی کارروائیاں شروع کی تھیں جن مں اب تک 4000 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جب کہ اس تنازع کے دوران مارے جانے والوں کی تعداد دس ہزار سے کہیں زیادہ ہے۔

XS
SM
MD
LG