رسائی کے لنکس

یمن: امریکہ سمیت کئی یورپی ملکوں کے سفارتخانے دوبارہ کھل رہے ہیں

  • کیرولین پریزوٹی

ہم نے القاعدہ کےخفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارکر دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیاہے: یمنی حکومت

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں امریکہ اور کئی یورپی ملکوں کے سفارتخانے جو سیکورٹی کے خطرات کی وجہ مختصر وقت کے لیے بند کر دیے گئے تھے، اب دوبارہ کھل رہے ہیں۔ یمن کی حکومت نے کہا ہے کہ اُس نے القاعدہ کے خلاف مہم میں ہزاروں فوجی تین صوبوں میں بھیج دیے ہیں۔

پیر کے روز حکومت نے اعلان کیا کہ اس نے القاعدہ کے ایک خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور دو عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔

کرسمس کے روز ایک امریکی ہوائی جہاز کو بم سے اڑانے کی ناکام کوشش کے بعد دنیا کی توجہ اب یمن پر ہے ۔یہ کوشش مبینہ طور پر جس شخص نے کی تھی، اس کا تعلق یمن میں القاعدہ سے بتایا جاتا ہے۔یمن نے القاعدہ کی سرگرمیوں پر قابو پانے کےلیے امریکہ سے مدد کی درخواست کی ہے۔

وزیر ِ خارجہ ہلری کلنٹن نے قطر کے وزیر اعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ مشکل صورت حال ہے اور اس میں کئی قسم کے چیلنج درپیش ہیں۔
اُن کے الفاظ ہیں:‘عدم استحکام کے اثرات سے ہمسایہ ممالک براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ القاعدہ کی مسلسل یہ کوشش ہے کہ یمن کی سرحدوں سے دور ملکوں میں دہشت گردی کے حملوں کے لیئے ،یمن کو اڈے کے طور پر استعمال کیا جائے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ یمن میں جنگ اور القاعدہ کی ان کوششوں کے اثرات ساری دنیا پر پڑیں گے۔’

یمن کو خانہ جنگی کے ساتھ اوربہت سے داخلی مسائل درپیش ہیں۔ کارنیگی انسٹی ٹیوٹ کے کرس بوسک کہتے ہیں کہ‘یمن کی اقتصادی حالت خراب ہے۔ ملک میں پانی کی شدید قلت ہے، بے روزگار ی عروج پر ہے، اور افراط ِ زر کی شرح بہت زیادہ ہے۔ان تمام مسائل پر فوری توجہ کی ضرورت ہے لیکن آج کل ان پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔’

مسٹرکرس بوسک کے مطابق یمن اپنے داخلی مسائل میں اس بُری طرح الجھا ہوا ہے کہ شاید اس کے لیئے بین الاقوامی دہشت گردی پر توجہ دینا ممکن نہ ہو۔

اُن کے بقول، میں سمجھتا ہوں کہ یمن کی حکومت کے خیال میں شمال میں خانہ جنگی اور جنوب کی علیحدگی کی تحریک ایسے داخلی خطرات ہیں جن سے مملکت کے وجود کو خطرہ ہے۔ ملک کے آدھے حصے کے الگ ہوجانے سے مملکت کے وجود کو جو خطرہ ہے، وہ القاعدہ یا اسلامی دہشت گردوں کے خطرے کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہے۔یہ صحیح ہے کہ یمن کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ صرف اسی صورت میں کارروائی کرتی ہے جب ایسا کرنے سے اس کی اپنی ضرورت پوری ہوتی ہو۔

امریکہ یہ امید کر رہا ہے کہ وہ پیسے سےیمن کی ان ضرورتوں کو پورا کر سکتا ہے۔ امریکی فوج کے جنرل ڈیوڈ پیٹرئیس سکیورٹی اور تعاون پر بات چیت کے لیئے گذشتہ اختتام ہفتہ میں یمن کے صدر سے ملے۔ جنرل پیٹرئیس نے صدر علی عبداللہ صالح کو بتایا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے یمن کو ملنے والی امداد کی رقم دگنی کر دے گا۔ اب یہ رقم 14 کروڑ ڈالر ہو جائے گی۔ لیکن سی آئی اے کے سابق عہدےدار کہتے ہیں کہ اپنے جغرافیے کی وجہ سے، یمن ، جزیرہ نما عرب میں پہلے ہی القاعدہ کا اہم مرکز بن چکا ہے۔


ان کے الفاظ میں جنگجووں کے لیے آنے جانے کا راستہ، ان کے لیے پناہ گاہ، ضروری سامان، اسلحہ ، غذائی اشیاء، کاغذات، ان تمام چیزوں کی نقل و حرکت کے لیئے یمن کا جغرافیہ بہترین ہے۔

قطر کے وزیر اعظم نے جن کا ملک یمن کا ہمسایہ ہے، فوری طور پر تجویز پیش کی کہ یمن میں القاعدہ سے نمٹنے کے لیئے جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی پر توجہ دینی چاہیئے کہ اپنے علاقے میں اس کے خلاف جنگ کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے تاکہ ہم کسی اور جگہ اسے بر آمد نہ کرنے لگیں۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے فوجی طاقت کے استعمال سے فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہو اور اس کے نتیجے میں القاعدہ اور زیادہ مضبوط ہو جائے۔

XS
SM
MD
LG