رسائی کے لنکس

یہ جھڑپیں ملک کےجنوبی صوبے لاہج میں ہوئیں جہاں جنگجوؤں نے فوج کی سکیورٹی پوزیشن پر حملہ کردیا۔ واقعے میں 17 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے

القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں نے ہفتے کو یمن کےصوبہٴ لاہج کےجنوبی ساحلی علاقے کے ساتھ یمنی فوج کی ایک چھاؤنی پر دھاوا بول دیا، جس کےنتیجے میں شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں دونوں جانب سےکم ا ز کم 30افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تعداد حکومتی فوجوں کی بتائی جاتی ہے۔

یمنی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد فضائیہ کے طیاروں نے عسکریت پسندوں کی پوزیشنوں پر بمباری کی، جس کے باعث جنگجو پسپائی پر مجبور ہوئے۔

اِس علاقے کی سرحدیں صوبہٴ ابیان کے ساتھ ملتی ہیں، جوالقاعدہ کا ایک گڑھ ہے۔

حالیہ دنوں میں عسکریت پسندوں نے ملحقہ علاقوں کی طرف دیدہ دلیری کے ساتھ دراندازی کی ہے۔ اُنھوں نے جمعے کو جنوبی علاقے میں قدرتی گیس کی ایک پائپ لائن کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑا دیا، اور اِس حملے کو امریکی ڈروں حملوں کا بدلہ قرار دیا، جس واقع میں وہ گاڑی تباہ ہوئی تھی جس میں اُس کے متعدد ارکان سوار تھے۔

’انصار الشریعہ‘ نامی اس دہشت گرد گروپ نے ہفتے کے روز کیے جانے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس سے قبل اِسی ماہ، گروپ تائز کے جنوبی شہر میں ایک امریکی استاد کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرچکا ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق، ہفتے ہی کو امدادی تنظیموں نے یمن میں خسرے کے خلاف بڑے پیمانے پر ٹیکے لگانے کی ایک مہم کا آغاز کردیا ہے۔ بیماری چھڑنے سے 4000سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پچھلےسال جب یہ بیماری شروع ہوئی، اب تک 170سے زائد بچے خسرے کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔

یمن میں یونیسیف کے نمائندے، گیرت کپالئیر نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ خصوصی طور پر بچوں کو بیماری لگنے کا زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

XS
SM
MD
LG