رسائی کے لنکس

یہ لڑائی اتوار کے دِن ابیان کے جنوبی صوبےمیں شروع ہوئی جب کہ دہشت گردوں نے صوبائی دارالحکومت زنجبارکے خود علاقے میں فوج کی چوکیوں پر دھاوا بول دیا اور متعدد بم دھماکے کیے

یمنی حکام اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں حکومتی افواج اور القاعدہ کے دہشت گردوں کے مابین چھڑنے والی شدید لڑائی میں کم ازکم 35فوجی اور 20عسکریت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لڑائی جنوبی صوبہ ٴ ابیان میں اتوار کے دِن اُس وقت شروع ہوئی جب القاعدہ کے دہشت گردوں نےمتعدد کار بم دھماکے کیے اور صوبے کے دارالحکومت زنجبار کے قریب خود کے علاقے میں ایک فوجی چوکی پر دھاوا بولنے کی کوشش کی۔


طبی عملے اور سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ باغیوں کے ساتھ گولیوں کے تبادلے کے دوران متعدد فوجی ہلاک ہوئے۔ اُن کا کہنا ہے کہ لڑائی میں تیزی کے باعث اموات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

القاعدہ کے عسکریت پسندوں نے گذشتہ مئی میں زنجبار کا کنٹرول سنبھال لیا تھا، ایسے میں جب اُس وقت کی حکومت سابق صدر علی عبد اللہ صالح کے آمرانہ دور کے خلاف حزب اختلاف کی طرف سے ملک بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں کو کچلنے میں مصروف تھی۔ اُس وقت سے اب تک، یمنی حکومت کی افواج قصبے پر قبضہ واپس لینے کی کوشش کررہی ہیں۔

اس سے قبل، یمن میں دو مختلف بم حملوں میں خودکش بمباروں سمیت کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بارود سے لدے ٹرک میں سوار دو خودکش بمباروں نے بیدا نامی علاقے میں ’ری پبلیکن گارڈ‘ کے کیمپ پر حملہ کیا، جس میں ایک فوجی ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔

مقامی عہدے دار نے اس حملے کی ذمہ داری القاعدہ پر عائد کی ہے۔

اس واقعہ کے چند گھنٹوں بعد جنوبی ساحلی شہر موکلا میں دو بم دھماکے ہوئے جس میں ایک فوجی ہلاک ہو گیا۔

مقامی انتظامیہ نے بتایا کہ ان حملوں کا ہدف سکیورٹی فورسز کی ایک مرکزی عمارت تھی۔

گزشتہ ہفتے اس ہی شہر میں واقع صدارتی محل کے باہر خودکش کار بم حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ یہ دھماکا طویل عرصے تک نائب صدر کے عہدے پر فائض رہنے والے عبدالرحمٰن منصور حادی کی دارالحکومت ثنا میں بطور صدر حلف برداری کے کچھ دیر بعد کیا گیا تھا۔

اپنے افتتاحی خطاب میں مسٹر حادی نے القاعدہ کے خلاف لڑائی جاری رکھنے اور نقل مکانی پر مجبور ہونے والے یمنی شہریوں کی گھروں کو واپسی کی راہ ہموار کرنے کا عزم کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG