رسائی کے لنکس

یمن: سب سے بڑی فضائی اڈے پر قبضے کے لیے جنگ شروع


حوثی جنگجو

حوثی جنگجو

حوثی باغیوں نے عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے تعز شہر کے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے بھیجے گئے خوراک کے 16 ٹرکوں کو روک رکھا ہے۔

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی اتحاد کی طرف سے پانچ روزہ جنگ بندی کو مسترد کر دیا جس کے بعد ملک کے سب سے بڑے فضائی اڈے پر قبضے کے لیے لڑائی شروع ہو گئی ہے۔

حوثی رہنما عبدالمالک الحوثی نے کہا ہے کہ جنگ بندی سے صرف داعش اور القاعدہ کے شدت پسندوں کو فائدہ پہنچے گا۔

حوثیوں کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر عبدالمالک الحوثی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’لڑائی جاری ہے اور جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔‘‘

عینی شاہدین اور سکیورٹی حکام کے مطابق جنگ بندی اتوار کو نصف شب سے شروع ہوئی تھی مگر اس کے فوراً بعد ہی حوثی باغیوں کی تعز شہر کے تین علاقوں میں گولہ باری سے زمینی لڑائی شروع ہو گئی۔

حوثی باغیوں نے عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے تعز شہر کے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے بھیجے گئے خوراک کے 16 ٹرکوں کو روک رکھا ہے۔

سکیورٹی حکام نے کہا کہ ایران کے اتحادی حوثی شدت پسندوں اور سعودی حمایت یافتہ جنگجوؤں کے درمیان مارب صوبے اور عدن کے شمال میں واقع العند فوجی اڈے کے اردگرد علاقوں میں بھی زمینی جنگ چھڑ گئی ہے۔

عدن کے راستے میں واقع یہ سٹریٹجک فوجی اڈہ چار ماہ سے جاری جنگ کے دوران زیادہ تر حوثیوں کے قبضے میں رہا ہے۔

عدن سے العند کی طرف پیش قدمی کے دوران سعودی حمایت یافتہ یمنی فوجیوں اور ان کے اتحادیوں کی حوثی باغیوں کے ساتھ سبر شہر میں بھی جھڑپیں ہوئیں۔

مارچ سے اب تک ہونے والی لڑائی میں 3,500 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG