رسائی کے لنکس

یمن: صدر کی حامی فورسز کا اہم عمارتوں پر قبضہ


صدر منصور ہادی کے حامی مسلح افراد

صدر منصور ہادی کے حامی مسلح افراد

ذرائع کے مطابق جن عمارتوں پر قبضہ کیا گیا ان میں مرکزی پاور اسٹیشن اور انٹیلی جنس کے صدر دفاتر بھی شامل ہیں۔

یمن کے صدر کی وفادار فورسز نے پانچ گھنٹوں کی لڑائی کے بعد جنوبی شہر عدن کی اہم عمارتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ اس بظاہر خانہ جنگی سے ملک کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کا خطرہ ہے۔

منصور ہادی کی حمایت کرنے والی ملیشیا نے یمن کے اقتصادی مرکز کے کچھ حصوں پر حوثی تحریک کی اتحادی سکیورٹی فورسز سے لڑائی کے بعد قبضہ کیا۔

ذرائع کے مطابق جن عمارتوں پر قبضہ کیا گیا ان میں مرکزی پاور اسٹیشن اور انٹیلی جنس کے صدر دفاتر بھی شامل ہیں۔

ملک کے شمال میں شیعہ آبادی کی غالب اکثریت والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے حوثیوں نے گزشتہ ماہ دارالحکومت صنعاء پر پوری طرح کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی جمال بینومار نے پیر کو ٹوئٹر پر ایک پیغام میں بتایا کہ انھوں نے منصور ہادی سے ملاقات کی جو کہ بدستور اپنی رہائش گاہ پر نظر بند ہیں۔

بینومار کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہادی کو ان کی نظر بندی ختم کرنے کے لیے اتوار کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد سے متعلق بھی آگاہ کیا۔

سلامتی کونسل نے قرارداد میں حوثیوں پر زور دیا کہ وہ حکومتی اداروں کا قبضہ چھوڑ دیں اور اگر تشدد پر مبنی واقعات ختم نہ ہوئے تو ان کے خلاف مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

وزیر اطلاعات نادیہ السکاف نے ٹوئٹر پر بتایا کہ انھوں نے منصور ہادی سے ملاقات کی جو ان کے بقول دل کی تکلیف میں مبتلا اور "خاصے بیمار" ہیں۔

حوثیوں نے دارالحکومت پر قبضے کے دوران منصور ہادی پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ ڈالا تھا لیکن وہ اب بھی قانونی طور پر ملک کے صدر ہیں۔

XS
SM
MD
LG