رسائی کے لنکس

مال بردار جہازوں کے ذریعے دہشت گردی کے پس پردہ عزائم

  • گیری تھامس

مال بردار جہازوں کے ذریعے دہشت گردی کے پس پردہ عزائم

مال بردار جہازوں کے ذریعے دہشت گردی کے پس پردہ عزائم

انسداد ِ دہشت گردی کے برطانوی اور امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سامان بردار ہوائی جہازوں میں بم چھپانے کا کام بظاہر یمن میں کیا گیا تھا ، اور انہیں اس طرح بنایا گیا تھا کہ وہ دوران پرواز پھٹ جائیں۔ انٹیلی جنس کے بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ القاعدہ کا مقصد مغربی ملکوں کے اقتصادی نظام کو نشانہ بنانا ہے، لیکن بعض دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ اس نے نسبتاً آسان اہداف کو نشانہ بنایا۔

گیارہ ستمبر 2001 کے بعد ہوائی سفر کرنے والے جانتے ہیں کہ ائر پورٹ کی سکیورٹی کتنی سخت ہو گئی ہے۔ آپ میٹل ڈٹیکٹر سے نکلتے ہیں، آپ کے جسم کو ٹٹول کر دیکھا جاتا ہے، یا مشین سے پورے جسم کو اسکین کیا جاتا ہے ۔ لیکن آپ کے ساتھ ہوائی جہاز میں جو سامان ہوتا ہے یا یو پی ایس، ڈی ایچ ایل، یا فیڈ ایکس کمپنیاں سامان بردار تجارتی جہازوں سے جو سامان لاتی ہیں، ان کی شاذ و نادر ہی اتنی سخت چیکنگ کی جاتی ہے ۔

حال ہی میں جن بموں کا سراغ ملا ہے کیا وہ مسافر بردار جہازوں کے بجائے سامان بردار جہازوں میں اس لیے تھے کہ ان کی بہت زیادہ چیکنگ نہیں ہوگی؟یا جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ نامی گروپ نے، جس کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ بم اسی نے رکھے تھے، اپنے طریقوں میں کوئی اسٹریٹجک تبدیلی کی ہے؟ کیا وہ اب بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کے بجائے اقتصادی ڈھانچے پر ضرب لگانا چاہتا ہے ؟ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ القاعدہ نے ہمیشہ ایسے مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے جن سے نہ صرف بڑی تعداد میں لوگ ہلاک و زخمی ہوں، بلکہ جن کی علامتی اہمیت بھی ہو۔ ایف بی آئی کے سابق نیشنل سکیورٹی برانچ چیف فلپ مَڈ کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ القاعدہ نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دو بار حملہ کیا۔‘‘یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کہ یہ لوگ اس قسم کے حملوں کو اس نقطۂ نظر سے دیکھیں۔ آپ نائن الیون سے پہلے، 1990 کے عشرے کے شروع میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر پہلے حملے پر نظر ڈالیے ۔یہ کسی ایسے ہدف پر حملہ نہیں ہے جس پر حملہ کرنا آسان ہو، بلکہ یہ ایسے ہدف پر حملہ ہے جو بیرونی دنیا میں امریکہ کی طاقت، اور امریکی ڈالر کی طاقت کا مظہر ہے۔’’

ہوم لینڈ سکیورٹی کے سابق انٹیلی جنس چیف چارلس ایلن کہتے ہیں کہ دہشت گردوں کی نظر میں سامان کی بار برداری کو سست کر دینے سے، مغربی دنیا میں اقتصادی سرگرمیاں سست پڑ جائیں گی کیوں کہ دنیا کے ملک سامان کو زیادہ احتیاط سے چیک کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دو ٹاور دنیا میں امریکی طاقت کی علامت تھے ۔ القاعدہ نے یہ بھی سمجھا کہ اگر وہ امریکی سامان بردار جہازوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں، تو اس سے لاکھوں پروازیں متاثر ہوں گی۔

لیکن بعض دوسرے تجزیہ کار اس خیال سے متفق نہیں ہیں۔ ٹرانسنیشنل تھریٹس کے سابق ڈپٹی نیشنل انٹیلی جنس افسر، Glenn Carle یہ بات مانتے ہیں کہ القاعدہ ایسے اہداف کو نشانہ بنانا چاہتی ہے جو امریکہ کی طاقت کی علامت ہوں، لیکن سامان بردار جہازوں کے منصوبے کا مطلب یہ ہے کہ القاعدہ زیادہ آسان اہداف کو نشانہ بنانے پر مجبور ہو گئی ہے ۔‘‘ان کا یہ نظریہ ضرور تھا کہ امریکی اور مغربی طاقت کی علامتوں کو ، ان کی ساکھ، مالی اور اقتصادی طاقت کو اس طرح نشانہ بنایا جائے کہ بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوں۔شاید وہ اب بھی یہ کرنا چاہیں گے لیکن میرے خیال میں وہ حقیقت پسند بھی ہیں اور جہاں کہیں ممکن ہو گا، وہاں ضرب لگائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ کو نیچے درجے کے خطرات کا، جو بہر حال تباہ کن خطر ات ہوں گے، شاید زیادہ بڑی تعداد میں سامنا کرنا پڑے۔’’

Carle کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کی یہ دھمکی کہ وہ مغربی دنیا کے اقتصادی ڈھانچے کو مفلوج کر دیں گے، شیخی بگھارنے سے زیادہ اور کچھ نہیں۔نائن الیون کے بعد، بن لادن کی یہ دھمکی کہ وہ امریکہ کے مالیاتی نظام کے قلب پر ضرب لگائیں گے ، اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی بات ہے ۔ تاہم، انٹیلی جنس اور سکیورٹی کے سابق عہدے دار کہتے ہیں کہ اب سامان کی چیکنگ زیادہ سختی سے کی جائے گی۔ ہر روز جتنا سامان ہوائی جہازوں سے آتا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کام کس طرح انجام دیا جائے گا۔ لیکن ہوم لینڈ سکیورٹی کے سابق انٹیلی جنس چیف چارلس ایلن کہتے ہیں کہ اس میں ایک طرح سے کارگو پروفائلنگ کرنی پڑے گی ،یعنی بعض ملکوں سے آنے والا سامان خاص طور سے بہت زیادہ احتیاط سے چیک کیا جائے گا۔ بعض پیکیج ایسے ہوں گے جن کی خاص طور سے چیکنگ کی جائے گی۔

تازہ ترین بموں کی دریافت کے بعد، ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے نے ایک نوٹس جاری کیا ہے کہ ہوائی جہازوں سے سفر کرنے والے لوگوں کو ائر پورٹس پرکچھ خصوصی اقدامات نظر آئیں گے جن میں سامان کی خصوصی اسکریننگ اور سکیورٹی شامل ہے ۔ اس دوران، فیڈ ایکس اور یو پی ایس نے یمن سے سامان کے پیکٹ بھیجنے معطل کر دیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG