رسائی کے لنکس

یمن: صدر صالح کے بعد دہشت گردی کے خلاف تعاون میں بہتری

  • گیری تھامس

حال ہی میں امریکہ جانے والے مسافر بردار ہوائی جہاز کو بم سے اڑانے کی جس سازش کو ناکام بنایا گیا ہے، وہ یمن میں تیار کی گئی تھی ۔ یمن میں سیاسی اور سماجی خلفشار کی وجہ سے القاعدہ کے ایک دھڑے کو یمن کے بعض علاقوں میں جہاں لا قانونیت کا دور دورہ ہے، قدم جمانے کا موقع مل گیا ہے ۔ افغانستان میں بھی القاعدہ کی ابتدا اسی طرح ہوئی تھی ۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کے رخصت ہونے کے بعد، یمن میں دہشت گردی کے انسداد کی کوششوں میں، غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کسی حد تک بہتر ہو گیا ہے

جس زمانے میں صدر صالح کا تختہ الٹنے کے لیے احتجاج ہو رہے تھے، اس وقت انھوں نے خود کو جہادیوں کی دہشت گردی کے خلاف نا گزیر طاقت کے طور پر پیش کیا تھا ۔ لیکن فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز کے فیلو سبسٹین گورکا کہتے ہیں کہ سابق یمنی لیڈر صرف باتیں ہی کرتے تھے ۔

’’صالح نے بعض ایسی باتیں کہی ہوں گی کہ دنیا کے اس حصے میں وہ بنیاد پرستوں یا سلفیوں کے خلاف امریکہ کی آخری امید ہیں۔ لیکن میڈیا کی رپورٹوں اور تجزیوں سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ وہ ایک طرف واشنگٹن اور مغرب سے کچھ کہتے تھے ، اور درپردہ وہ اپنے ملک میں، جہادیوں اور سلفیوں سے ملے ہوئے تھے تا کہ اپنا اقتدار برقرار رکھ سکیں ۔ صالح یہ کھیل صرف امریکہ کے ساتھ نہیں، بہت سے ملکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔‘‘

سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق ڈائریکٹر مائیکل ہائیڈن کہتے ہیں کہ مسٹر صالح کے ساتھ انٹیلی جنس کے تعلقات خاصے مشکل تھے ۔’’ میں کبھی یہ نہیں کہوں گا کہ دہشت گردی کے انسداد میں، صدر صالح کے ساتھ شراکت داری کوئی آسان کام تھا ۔ ایسا لگتا تھا کہ ان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔ ان کے مطالبات کبھی ختم نہیں ہوتے تھے جب کہ ان کی کارکردگی برائے نام ہوتی تھی۔‘‘

القاعدہ کے بالکل شروع کے بیشتر بنیادی ارکان یمن کے شمالی ہمسایے، سعودی عرب سے تھے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک طرح سے یہ مفاہمت موجود تھی کہ یہ گروپ ملک کے اندر حملہ نہیں کرے گا۔ لیکن القاعدہ نے 2003 میں تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک کے اندر، مغربی اور سعودی اہداف پر حملے شروع کر دیے ۔ سعودی حکمراں اس پر بہت ناراض ہوئے اور انھوں نے اس گروپ کے خلاف کارروائی شروع کر دی ۔

سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ہائیڈن کہتے ہیں کہ القاعدہ کی سرگرمیوں میں اس تبدیلی پر انٹیلی جنس کے تجزیہ کاروں کو بڑی حیرت ہوئی، لیکن دہشت گرد گروپ کو یہ غلطی بہت مہنگی پڑی ہے ۔ ’’ سچی بات یہ ہے کہ ہمیں اس پر حیرت ہوئی تھی کہ وہ اس قسم کی کارروائیاں کریں گے ۔ اگر آپ مجھے سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا خالصتاً جنگی چال کی حیثیت سے ایسا کرنا دانشمندی تھی، تو میرا جواب نفی میں ہو گا ۔ لیکن اس کے نتائج بالکل واضح تھے، اور انہیں اپنی غلطی کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے ۔‘‘

جب سعودی عرب نے القاعدہ کے خلاف سخت کارروائی شروع کی، تو اس کے بہت سے ارکان جنوب کی طرف یمن کی سرحد کے پار فرار ہو گئے۔ یہاں انھوں نے نئے سرے سے جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ یا AQAP کے نام سے خود کو دوبارہ منظم کیا

امریکی عہدے دار کہتے ہیں کہ AQAP نے اب شروع کے القاعدہ گروپ کو جو پاکستان میں قائم ہوا تھا، پیچھے چھوڑ دیا ہے، اور وہ اب مغرب اور اس کے اتحادیوں کے لیے دہشت گردی کا سب سے زیادہ ہلاکت خیز گروپ بن گیا ہے ۔ امریکہ نے سعودیوں کے ساتھ انٹیلی جنس کے شعبے میں زیادہ قریبی تعاون شروع کر دیا، یمن میں AQAP پر ڈرون حملوں میں اضافہ کر دیا، اور صالح حکومت کو سیکورٹی کے شعبے میں امداد دی۔

2011 میں جب ان کی حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے اس وقت صدر صالح جنوب میں علیحدگی پسندوں سے جنگ کر رہے تھے ۔ اس کے علاوہ،انہیں شمال میں شیعہ مسلمانوں کی بغاوت کا بھی سامنا تھا جنہیں Houthis کہا جاتا ہے ۔ بالآخر نومبر میں انھوں نے اقتدار نائب صدر عابد رابو منصور ہادی کو منتقل کر دیا، لیکن اپنا عہدہ اس وقت تک بر قرار رکھا جب تک انہیں فروری میں ووٹنگ کے نتیجے میں ان کے عہدے سے الگ نہیں کر دیا گیا ۔

سبسٹین گورکا کہتے ہیں کہ صدر صالح کے جانے کے بعد، انسدادِ دہشت گردی کے بارے میں تعاون میں نمایاں بہتری آئی ہے ۔’’ ان کے رخصت ہونے کے بعد، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نئی انتظامیہ ، ہر چیز پر اس طرح تنقید نہیں کرتی جیسی وہ کرتے تھے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ یہ اہم ملک اب جتنا تعاون کر رہا ہے وہ اس سے بہت زیادہ مختلف ہے جتنا صالح کے دور میں ہوتا تھا۔‘‘

ایسا لگتا ہے کہ جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ، جس نے یمن میں کچھ علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے، اب براہ راست یمن کی فوج سے ٹکر لے رہی ہے ۔

7 مئی کو انصار الشریعہ کے پرچم تلے جنگ کرتے ہوئے، AQAP نے جنوبی یمن میں دو فوجی اڈوں پر حملہ کیا۔ انھوں نے اندازاً 32 فوجیوں کو ہلاک کر دیا اور ان اڈوں کو روند ڈالا ۔ جمعرات کو جار کے جنوبی قصبے میں، مزائل کے ایک حملے میں، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امریکہ کے مسلح ڈرون ہوائی جہاز سے کیا گیا تھا، AQAP کے آٹھ جنگجو ہلاک ہو گئے ۔

XS
SM
MD
LG