رسائی کے لنکس

یہ حملے نماز جمعہ کی ادائگی کے دوران بدر اور الہشوش مساجد پر ہوئے، جن کا تعلق حوثی شیعہ باغی گروپ سے بتایا جاتا ہے، جو اس وقت یمن میں اقتدار میں ہے۔ تیسرا خودکش حملہ اُس وقت ہوا جب خوفزدہ افراد پناہ کی تلاش میں مساجد سے باہر نکلے

طبی شعبے سے وابستہ اہل کاروں کا کہنا ہے کہ یمن کے دارالحکومت، صنا کی دو مساجد میں تین خودکش حملوں کے نتیجے میں کم از کم 120 افراد ہلاک، جب کہ 100 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

سی این این کی ایک اطلاع کے مطابق، داعش کے شدت پسندوں نے اِن حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

یہ حملے نماز جمعہ کی ادائگی کے دوران بدر اور الہشوش مساجد پر ہوئے، جن کا تعلق حوثی شیعہ باغی گروپ سے بتایا جاتا ہے، جو اس وقت یمن میں اقتدار میں ہے۔

تیسرا خودکش حملہ اُس وقت ہوا جب خوفزدہ افراد پناہ کی تلاش میں مساجد سے باہر نکلے۔

اطلاعات کے مطابق، جمعرات کے دِن ملک کے جنوبی شہر، عدن میں حوثی باغیوں اور موجودہ صدر، عبد ربو منصور ہادی سے وفادار ملیشیا کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں۔

ہادی، گذشتہ ماہ، باغیوں کی عائد کردہ نظربندی سے بچ نکلے تھے۔ حوثی سابق یمنی رہنما، علی عبداللہ صالح کے اتحادی ہیں، جنھیں 2011ء کی مقبول عام سرکشی کے دوران اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تھا۔

جان بچا کر، ہادی صنعا سے عدن پہنچے تھے، اس کوشش میں کہ وہ اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کریں گے، ایسے میں جب سیاسی طور پر ملک بری طرح سے بٹا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ، خلیج کے عرب ممالک اور متعدد مغربی ملک، جن میں امریکہ بھی شامل ہے، سبھی، ماضی میں، ہادی کی حمایت میں بیانات جاری کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG