رسائی کے لنکس

یمن کے سیاسی مستقبل کو درپیش خطرات

  • محمد الشناوی

یمن کے سیاسی مستقبل کو درپیش خطرات

یمن کے سیاسی مستقبل کو درپیش خطرات

اہم ملٹری کمانڈرز اور قبائلی لیڈر حکومت کے مخالفین کے ساتھ ملتے جا رہے ہیں جن کا اصرار ہے کہ صدر فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ حکومت اور حکومت کا ساتھ چھوڑ دینے والے فوجی یونٹوں، دونوں نے دارالحکومت صنعا کی سڑکوں پر بکتر بند گاڑیاں لگا دی ہیں۔ حکومت نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔

یمن میں صدرعلی عبداللہ صالح کو ہزاروں مظاہرین کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو ان کی 32 سالہ حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گذشتہ ہفتے حالات اس وقت انتہائی خراب ہو گئے جب صدر کے حامیوں نے درجنوں مظاہرین کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ اس واقعے کے بعد بعض اہم فوجی اور قبائلی لیڈروں نے حزب اختلاف میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا۔

یمن کی مسلح افواج کے اندر پھوٹ پڑنے کے بعد صدرعلی عبداللہ صالح نے اپنی فوج کے اعلیٰ افسروں کو انتباہ کیا کہ اگر ملک میں فوجی انقلاب لانے کی کوشش کی گئی تو خانہ جنگی شروع ہو جائے گی اور ملک کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ فوجی انقلاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہمارا وطن غیر مستحکم ہو جائے گا، خانہ جنگی ہوگی اور بہت خون خرابہ ہوگا۔

اور اگر یہ دھمکی کافی نہیں تھی تو صدر صالح نے اس سال کے آخر میں انتخابات کرانے اور جنوری تک اپنا عہدہ چھوڑنے کی پیشکش بھی کی۔

لیکن یہ دھمکیاں اور پیشکشیں بے اثر ثابت ہوئی ہیں۔ اہم ملٹری کمانڈرز اور قبائلی لیڈر حکومت کے مخالفین کے ساتھ ملتے جا رہے ہیں جن کا اصرار ہے کہ صدر فوری طور پر استعفیٰ دیں۔ حکومت اور حکومت کا ساتھ چھوڑ دینے والے فوجی یونٹوں، دونوں نے دارالحکومت صنعا کی سڑکوں پر بکتر بند گاڑیاں لگا دی ہیں۔ حکومت نے ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح



امریکی عہدے داروں اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صورتِ حال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے ۔ یمن میں امریکہ کے ایک سابق سفیر ڈیوڈ نیوٹون کہتے ہیں کہ ’’یمن میں تشدد کا شدید خطرہ موجود ہے کیوں کہ حزبِ اختلاف میں اتحاد نہیں ہے اور نہ کوئی ایسی واضح شخصیت ہے جو حزب اختلاف کو قابلِ قبول ہو۔ لہٰذا اگر صدر رخصت ہوتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ ملک کا انتظام کون چلائے گا اور یمن کے بہت سے سنگین مسائل سے کیسے نمٹا جائے گا‘‘۔

نیوٹون کہتے ہیں کہ ایک مسئلہ یہ ہے کہ یمن کے دو کروڑ چالیس لاکھ لوگوں کا شمار مشرقِ وسطیٰ کے غریب ترین لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں اور القاعدہ کے دہشت گرد بھی سرگرم ہیں۔

اس کے باوجود، نیوٹن کہتے ہیں کہ کامیابی کا امکان موجود ہے اگر حزب اختلاف کے مختلف گروپ متحد ہو جائیں اور ایک عبوری حکومت بنا لیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس قسم کی حکومت جنوب میں علیحدگی پسندوں اور شمال میں شیعہ ہیوتھی(Houthi) باغیوں کے ساتھ مصالحت کر سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان سب باتوں کا انحصار اس پر ہے کہ کیا یمن کی فوج نظم و ضبط قائم رکھ سکتی ہے اور عبوری دور میں حالات کو مستحکم رکھ سکتی ہے۔

ابراہیم کاراواں Utah یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فوج کے رول کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ اگلے چند دنوں یا ہفتوں میں صدر صالح حالات سے کس طرح نمٹتے ہیں۔ ’’فوج اب تک مداخلت کرنا نہیں چاہتی تھی اور اس کے بعض لیڈر الگ ہونا شروع ہو گئے اور انھوں نے علی عبداللہ صالح کی حکومت سے خود کو الگ کرنا شروع کر دیا۔ اس طرح فوجی قیادت کا خود کو حکومت سے الگ رکھنے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے‘‘۔

امریکہ کے لیے صدر صالح کے رخصت ہونے کا مطلب یہ ہو گا کہ جزیرہ نمائے عرب میں القاعدہ نامی دہشت گرد گروپ کے خلاف جو یمن میں سرگرم ہے، ایک اہم اتحادی ہاتھ سے جاتا رہے گا۔ تا ہم، کاراوان کہتے ہیں کہ امریکی حکومت کے لیے یہ ممکن ہونا چاہیئے کہ یمن میں نئی حکومت کے ساتھ اسی قسم کے تعاون کا بندوبست ہو جائے۔ ’’ فوج ہی وہ طاقت ہو گی جو امریکہ کے ساتھ تعاون اور امریکہ سے یمن کے لیے اپنے فوجی امداد جاری رکھنے کے لیے کہے گی‘‘۔

یمن کے بارے میں بیشتر امریکی ماہرین کہتے ہیں کہ یمن میں جو بھی حکومت بر سر اقتدار آئے گی، وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات قائم رکھ کر اور ملک کی سماجی اور اقتصادی مسائل پر توجہ دے کر، القاعدہ کے خطرے کو کم کر سکے گی۔

XS
SM
MD
LG