رسائی کے لنکس

یمن: صدارتی محل پر حملہ، عبداللہ صالح سعودی عرب میں


یمن: صدارتی محل پر حملہ، عبداللہ صالح سعودی عرب میں

یمن کے دوسرے بڑے شہر تعز میں حکام نے بتایا ہے کہ مسلح افراد نے صدارتی محل کے قریب چار فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔اتوار کو پیش آنے والے اس واقعہ میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا۔

مزید برآں، دارالحکومت صنعا میں ہزاروںحکومت مخالف مظاہرین نے صدرعلی عبداللہ صالح کی ملک سے روانگی کا جشن منایا۔ اُنھوں نے توقع ظاہر کی کہ صدر صالح کی ملک سے دوری مستقل ہوگی جس سے اُن کا 33 سالہ اقتدار اختتام پذیر ہو جائے گا۔

یمنی نائب صدر عبد ربو منصور حادی نے امریکی سفیر جرلڈ فیئرسٹین (Gerald Feierstein) سے اتوار کو ملاقات کی، جس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ صدر صالح کی غیر موجودگی میں وہ تمام اُمور کی نگرانی کر رہے ہیں۔

امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر براک اوباما کے نیشنل سکیورٹی کےمشیر جان برینن نے ہفتہ کو منصور حادی سے بات چیت کی تھی۔

سعودی حکام نے کہا ہے کہ راکٹ حملے میں زخمی ہونے والے یمن کے صدر علی عبدالله صالح علاج کے لیے سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔

یمن کے سرکاری میڈیا کا ہفتہ کو کہنا تھا کہ صنعا میں واقع صدارتی محل پر حملے کے دوران زخمی ہونے والے یمنی وزیر اعظم بھی کم از کم چار دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے ساتھ سعودی عرب گئے ہیں۔ یمنی رہنماؤں کے زخموں کی نوعیت واضح نہیں ہو سکی ہے۔

ادھرسرکاری حکام نے بتایا ہے کہ یمن کے باغی قبائل نے سعودی عرب کی مدد سے طے کیا گیا جنگ بندی کا معاہدہ قبول کر لیا ہے۔

طرفین کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ اس منصوبے سے متفق ہیں۔ گذشتہ ہفتے ایسا ہی ایک معاہدہ ناکام ہونے کے بعد صدر صالح کی افواج اور حکومت مخالف قبائلی رہنما شیخ صادق الاحمر کے حامیوں کے مابین جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔ یہ لڑائی ہفتہ کو بھی جاری رہی جس میں حکومت مخالف رہنماؤں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔

قبائلی حکام نے بتایا کہ الاحمر کے محلے میں سرکاری افواج کی گولہ باری سے10 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے۔

دریں اثنا حکومتی اور صدر صالح کے مخالف رہنماؤں کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کا مرکز بنے ہوئے جنوبی شہر تعز سے سکیورٹی فورسز نکل گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG