رسائی کے لنکس

یہ اقدام ایک ایسے وقت سامنے آیا جب صدر اور حوثی ملیشیا کے درمیان سیاسی رسہ کشی جاری ہے جس نے پیر سے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

یمن کی پارلیمان نے صدر عبد ربہ منصور ہادی کا استعفیٰ مسترد کر دیا ہے اور سیاسی اثرات سے نمٹنے کے لیے جمعہ کو پارلیمان کا ہنگامی اجلاس ہو رہا ہے۔

صدر اور ان کی کابینہ نے جمعرات کو اپنے استعفے پیش کیے تھے۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت سامنے آیا جب صدر اور حوثی ملیشیا کے درمیان سیاسی رسہ کشی جاری ہے جس نے پیر سے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

یمن کی حکومت کے ترجمان محمد الباشہ نے واشنگٹن سے سوشل میڈیا کے ذریعے اعلان کیا کہ محصور صدر اقتدار سے الگ ہو رہے ہیں ۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے وزیر اعظم خالد باہا کے فیس بک پیغام کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت بقول ان کے ’’ایک غیر تعمیری بھول بھلیوں‘‘ میں نہیں الجھنا چاہتی۔

اقوام متحدہ کے نمائندے جمال بینمر نے جمعرات کو صنعا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی بحران کا خاتمہ اس صورت ہو سکتا ہے اگر مخالف فریق اولین معاہدوں کی پابندی کریں جس میں شراکت اقتدار اور تشدد کے خاتمے کا کہا گیا تھا۔

امریکی وزرات خارجہ کی ترجمان جین ساکی کی طرف سے استعفوں کی خبروں پر دھیمے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ یمن میں "پرامن انتقال (اقتدار)" کی حمایت کرتا ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس(پرامن) منتقلی کی کیا صورت ہو گی۔

ساکی نے مزید کہا کہ یمن میں امریکی سفارتی عملے کے لیے سیکورٹی سے متعلق صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حوثی باغی جمعرات کو بھی صدارتی محل کے باہرموجود رہے ، ایک روز قبل دونوں فریقوں نے ملک کے دارالحکومت صنعا میں کشیدگی کو ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس معاہدے میں باغیوں سے کہا گیا تھا کہ وہ صدراتی محل سے پیچھے ہٹ جائیں اور صدر کے چیف آف اسٹاف کو رہا کردیں جو ملیشیا کے قبضے میں ہے۔

XS
SM
MD
LG