رسائی کے لنکس

یمن میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، درجنوں زخمی


یمن میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، درجنوں زخمی

یمن میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ، درجنوں زخمی

یمن میں حکومت مخالف مظاہرین پر پیر کو سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سرکاری فورسز نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے گولی چلائی اور آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ یہ جھڑپیں جنوبی شہری طائز میں ہوئیں جہاں مظاہرین مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ صدر علی عبداللہ صالح فوری طور پر عہدہ چھوڑ دیں۔

یہ مظاہرے ایسے وقت ہو رہے ہیں جب چند روز قبل صدر صالح نے عرب ممالک کی تجویز پر عہدہ چھوڑنے پر رضامندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 30 دنوں میں حزب اختلاف کی جماعتوں سے ایک معاہدے کے بعد وہ مستعفی ہو جائیں گے۔

یمن کی سات جماعتوں پر مشتمل حزب اختلاف کے اتحاد نے چھ عرب ممالک کی تنظیم ’گلف کوآپریشن کونسل‘ اور صدر صالح کے درمیان معاہدے کو قبول کیا ہے لیکن کہا ہے کہ جب تک صدر اپنے عہدے پر قائم ہیں وہ یمن میں مجوزہ اتحادی حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے۔

معاہدے کے تحت صدر صالح اور اُن کے خاندان کو مقدمات سے استثنیٰ حاصل ہوگا لیکن مظاہرین اُن کے خلاف عدالتی کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

صدر علی عبداللہ صالح گذشتہ 32 سال سے ملک کے صدر ہیں اور اُن کے اقتدار کے خاتمے کے لیے ملک میں گذشتہ دو مہینوں سے بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG