رسائی کے لنکس

یمن کے دارالحکومت میں لڑائی کا دوبارہ آغاز


یمن کے دارالحکومت میں لڑائی کا دوبارہ آغاز

یمن کے دارالحکومت میں لڑائی کا دوبارہ آغاز

یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کی حامی افواج اور حکومت مخالف قبائلی جنگجووں کے مابین دارالحکومت صنعاء میں شدید جھڑپوں کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہو گیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شہر کے شمالی حصہ میں جمعرات کی صبح دھماکے اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں جہاں سرکاری فوجی دستے قبائلی رہنما شیخ صادق الاحمر کے حامیوں سے برسرِ پیکار ہیں۔

جھڑپوں میں جانی نقصان کی تاحال کوئی اطلاع نہیں۔

اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف صدر صالح کے خلاف مظاہروں میں گزشتہ دو ہفتوں میں شدت آ گئی ہے اور اس دوران فریقین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 100 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

یمن کے وزیرِ خارجہ نے ملک میں جاری حالیہ بدامنی کا ذمہ دار حزبِ مخالف کی تحریک کی جانب سے 2006ء کے صدارتی انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کیے جانے کو ٹہرایا ہے۔

وزیرِ خارجہ ابو بکر القربی نے منگل کو کہا کہ صدر صالح اقتدار اپنے نائب کو منتقل کرنے سے متعلق تعطل کا شکار منصوبے پر عمل درآمد میں یکسو ہیں۔

صدر صالح رواں برس اپریل سے اب تک مجوزہ منصوبے سے تین بار اتفاق کر چکے ہیں تاہم ہر بار معاہدے پر دستخط سے قبل وہ منحرف ہو جاتے ہیں۔

صدر صالح پڑوسی ملک سعودی عرب میں تین ماہ گزارنے کے بعد گزشتہ ہفتے وطن واپس پہنچے ہیں۔ انھیں جون میں صنعاء میں واقع صدارتی محل پر کیے گئے ایک راکٹ حملے میں زخمی ہونے کے بعد علاج کی غرض سے سعودی عرب منتقل کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG