رسائی کے لنکس

یمن: کئی شہروں میں مظاہرے ، سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں


یمن: کئی شہروں میں مظاہرے ، سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں

یمن: کئی شہروں میں مظاہرے ، سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین میں جھڑپیں

ہفتے کے روز صنعا اور عدن سمیت یمن کے متعدد شہروں میں مظاہرین نے ٹریفک بلاک کردی اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔

یمنی سیکیورٹی فورسز اور حزب مخالف کے کارکنوں کے درمیان ہفتے کے دن دوسرے روز بھی تعز میں جھڑپیں جاری رہیں۔ جمعے کی جھڑپوں میں اس جنوبی شہر میں کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

طبی کارکنوں کا کہناہے کہ ہفتے کے دن سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین کے خلاف آنسوگیس کے استعمال اور فائرنگ سے کم ازکم 13 افراد زخمی ہوئے۔ روئیٹرز نیوز کا کہناہے کہ یہ افراد اس وقت زخمی ہوئے جب سینکڑوں مظاہرین نے پولیس کی جانب سے کھڑی کی جانےوالی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی ۔

ہفتے کی صبح تعز میں ہزاروں افراد حکومت مخالف مظاہرے کے لیے گھروں سے باہر نکلے۔ جب کہ عینی شاہدوں کا کہناہے کہ جمعے کی جھڑپوں میں کم ازکم چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔

ہفتے ہی کے روز یمن میں ایک اور واقعہ میں مظاہرین نے ٹریفک بلاک کردی اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔ یہ مظاہرے دارالحکومت صنعا اور عدن سمیت متعدد مقامات پر ہوئے۔

کئی مظاہرین اس پر برہم تھے کہ صدر علی عبداللہ نے استعفے کی تجویز کیوں مسترد کی۔ یہ منصوبہ جمعرات کو قطر کے وزیر اعظم شیخ حامد بن جاسم الثانی نے پیش کیا تھا۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا تھا کہ خلیجی تعاون کی چھ ملکی تنظیم کا مسٹر صالح کے ساتھ استعفے پر معاہدہ ہوجائے گا۔

اس کے جواب میں یمن نے قطر سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا۔ یمن کے سرکاری خبررساں ادارے صبا نیوز نے ہفتے کے روز کہا کہ سفیر کو صلاح مشورے کے لیے بلایا گیا ہے۔

یمن میں گذشتہ دو ماہ سے حکومت کے خلاف مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین صدر صالح کے 32 سالہ اقتدار کے خاتمے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ صدر یہ پیش کش کرچکے ہیں کہ وہ اپنے عہدے کی مدت مکمل ہونے پر اختیارات نئی حکومت کے سپرد کردیں گے۔

XS
SM
MD
LG