رسائی کے لنکس

یمن میں القاعدہ سے منسلک سینکڑوں عسکریت پسندوں نے جنوبی شہر ہوتا (Houta) میں سرکاری عمارتوں پر حملہ کیا ہے اور صوبائی دارالحکومت کے بعض حصوں پر کچھ وقت کے لیے اپنا قبضہ بھی برقرار رکھا۔

انصار الشريعة نامی مسلح گروہ نے حملے کا آغاز بدھ کی صبح کیا تھا۔ عینی شاہدین اور طبی عملے نے بتایا کہ لڑائی میں دو سکیورٹی اہلکار ہلاک اور کم از کم تین زخمی ہوئے۔

کئی گھنٹوں بعد عسکریت پسندوں نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے شہر کے جنوبی نواحی علاقے میں نئی پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔

یمن میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں اور صدر علی عبداللہ صالح کی غیر موجودگی میں ملک کے شورش زدہ جنوبی حصے میں پرتشدد کارروئیوں میں اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

عسکریت پسندوں نے مئی میں بھی دو جنوبی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا جن میں عبیان صوبے کا دارالحکومت زنجبار بھی شامل تھا۔

لڑائی کے باعث سینکڑوں شہری ساحلی شہر عدن میں منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

رواں ماہ صدارتی محل پر ایک حملے میں زخمی ہونے والے صدر صالح اس وقت سعودی عرب میں زیرعلاج ہیں۔ یمن کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق صدر صالح نے بدھ کو سعودی حکام سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے بتایا کہ اُن کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔

یمن میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے۔ مظاہرین صدر صالح کے اقتدار کا خاتمہ اور عبوری کونسل کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں جس میں موجودہ حکومت کے اراکین شامل نا ہوں۔

XS
SM
MD
LG