رسائی کے لنکس

ایک صوتی پیغام میں شیعہ لیڈر عبد الملک الحوثی نے کہا ہے کہ حکومت نے پچھلے سال جو متعدد شرائط پیش کی تھیں، وہ اُنہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہیں

شمالی یمن میں باغیوں کے ایک لیڈر نے کہا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ کسی فائر بندی پر رضامند ہونے کے لیے تیار ہیں۔

ہفتے کے روز یمن کی ایک وَیب سائٹ پر پوسٹ کیے جانے والے ایک صوتی پیغام میں شیعہ لیڈر عبد الملک الحوثی نے کہا ہے کہ حکومت نے پچھلے سال جو متعدد شرائط پیش کی تھیں، وہ اُنہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

حکومت نے ستمبر میں باغیوں کو اس شرط کے ساتھ کسی مستقل فائر بندی کی پیش کش کی تھی کہ وہ علاقے سے پیچھے ہٹ جائیں، حملے کرنا بند کردیں اور مقامی حکومت کے معاملات میں مداخلت کرنا چھوڑ دیں۔

زیدی فرقے سے تعلق رکھنے والے شیعہ لوگ ، حکومت پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ اُس نے اُنہیں اُن کے شہری، اقتصادی اور مذہبی حقوق سے محروم کر رکھا ہے، 2004 سے حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ہفتے کے روز ہی یمن کے حکام نے القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک مشتبہ جنگجو کو گرفتار کرلیا ہے۔ عہدے داروں نے کہا ہے کہ وہ مشرقی حضر موت کے علاقے میں کوئى خود کُش حملہ کرنے کی تیاری کررہا تھا۔

XS
SM
MD
LG