رسائی کے لنکس

یمن: صدارتی محل کے گرد باغی محافظ تعینات


باغیوں کے رہنما، عبدالمالک الحوثی نے منگل کی رات گئے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ اُن کا دھڑا اس بات کا خواہاں ہے کہ یمن میں جاری نام نہاد ’بدعنوانی اور مطلق العنانی‘ کا خاتمہ لایا جائے۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت کے خلاف مزید اقدام ممکن ہے

شیعہ حوثی باغیوں نے یمنی صدر، عبد ربو منصور ہادی کے گھر کے باہر تعینات محافظوں کو ہٹا کر اپنا گارڈ لگا دیا ہے، جس کے بعد، اُنھیں ملک کے دارالحکومت کے کنٹرول پر حاصل گرفت مزید مضبوط ہوگئی ہے۔

باغیوں نے بدھ کو مورچہ سنبھال لیا، جس سے ایک ہی روز قبل اُن کی صنعاٴ میں اُن کی یمنی افواج سے جھڑپ ہوئی تھی۔ مسٹر ہادی کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے اندر محفوظ ہیں۔

باغیوں کے رہنما، عبدالمالک الحوثی نے منگل کی رات گئے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ اُن کا دھڑا اس بات کا خواہاں ہے کہ یمن میں جاری نام نہاد ’بدعنوانی اور مطلق العنانی‘ کا خاتمہ لایا جائے۔

اُنھوں نے حکومت برطرف کرنے کی بات تو نہیں کی، لیکن متنبہ کیا کہ اُس کے خلاف مزید اقدام ممکن ہے۔

ایک اور خبر کے مطابق، عدن کے جنوبی شہر کے حکام نے بدھ کو ہوائی اڈا بند کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام مسٹر ہادی کے اختیار اور ملکی اقتدارِ اعلیٰ پر حملوں کے خلاف احتجاج کا غماز ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل، بان کی مون نے جنگ بندی اور حکومت کےمکمل اختیار کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

حوثی افواج نے، جن کا مطالبہ ہے کہ یمن کی شیعہ اقلیت کو مزید حقوق دیے جائیں، ستمبر میں صنعاٴپر دھاوا بول دیا تھا۔

ہفتے کے دِن، حوثیوں نے صدر ہادی کے ’چیف آف اسٹاف‘ کو اغوا کر لیا تھا، ایسے میں جب حکومت نیا مسودہٴ آئین تیار کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی۔

یمن داخلی تقسیم کا بری طرح شکار رہا ہے۔ حوثی تحریک کا اثر رسوخ ملک کے شمال کے روایتی خطے سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے، جہاں بغاوت جاری ہے، جب کہ جنوب میں علیحدگی پسند اپنے عزائم کے فروغ کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دریں اثناٴ، یمن میں کارفرما جزیرہ نما عرب کی القاعدہ کے اس گروہ (اے کیو اے پی) نے ملک کے اندر اور بیرون ملک حملوں کے دعوے کیے ہیں، جن میں سے تازہ ترین واقعہ اس ماہ کے اوائل میں پیرس میں مزاحیہ جریدے، ’چارلی ہیبڈو‘ پر ہونے والا حملہ ہے۔

XS
SM
MD
LG