رسائی کے لنکس

یمن: باغیوں کا اہم ساحلی شہر، بندرگاہ پر قبضہ


فائل

فائل

صنعاء کے اہم مقامات بھی بدستور باغیوں کے قبضے میں ہیں اور انہوں نے نئی حکومت کے قیام تک دارالحکومت کا قبضہ چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔

یمن میں شیعہ باغی گروہ کے جنگجووں نے دارالحکومت صنعاء کے بعد بحیرۂ احمر کے کنارے واقع ایک اہم شہر اور بندرگاہ پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق 'الحوثی' باغیوں نے منگل کو دارالحکومت سے 200 کلومیٹر مغرب میں واقع الحدیدۃ نامی شہر پر چڑھائی کردی اور کسی قابلِ ذکر مزاحمت کے بغیر شہر اور اس کی بندرگاہ پر قبضہ کرلیا۔

حکام کے مطابق باغیوں نے قبضے کے فوراً بعد شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر چوکیاں قائم کرلی ہیں جب کہ شہر کے ہوائی اڈے، فوجی اور سرکاری تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کی جانب اپنے دستے روانہ کردیے ہیں۔

الحوثی باغیوں کا تعلق یمن کے شمالی علاقے سے ہے اور انہوں نے گزشتہ ماہ کے اوائل میں دارالحکومت صنعاء پر بھی چڑھائی کردی تھی۔

باغی جنگجووں نے اپنے ایک مخالف سنی فوجی جنرل اور اس کے حامی فوجی دستوں کے شکست دینے کےبعد دارالحکومت پر قبضہ کرلیا تھا۔

صنعاء کے اہم مقامات بدستور باغیوں کے قبضے میں ہیں اور انہوں نے نئی حکومت کے قیام تک دارالحکومت کا قبضہ چھوڑنے سے انکار کردیا ہے۔

الحوثی باغیوں کے رہنماؤں اور یمن کی دیگر اہم سیاسی جماعتوں نے گزشتہ ماہ صنعاء کے صدارتی محل میں نئی حکومت کے قیام کے معاہدے پر دستخط بھی کیے تھے جس کے تحت الحوثی اور ملک کے جنوبی علاقے میں سرگرم علیحدگی پسند گروہ کو مجوزہ حکومت میں نمائندگی دی جائے گی۔

معاہدے کے تحت یمن کے صدر عبدالرب منصور ہادی نے احمد عواد بن مبارک کو گزشتہ ہفتے یمن کا نیا وزیرِاعظم نامزد کیا تھا جسے الحوثیوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔

جنگجووں نے صدر ہادی کو بن مبارک کی جگہ وزارتِ عظمیٰ کے لیے تین نام تجویز کیے تھے جن میں سے صدر ہادی نے پیر کو خالد محفوظ بحا کی بحیثیت وزیرِ اعظم نامزدگی کا اعلان کیا تھا۔

خالد محفوظ اقوامِ متحدہ میں یمن کے سفیر ہیں اور الحوثی باغیوں نے ان کی نامزدگی کا خیرمقدم کیا تھا جس کے بعد امید کی جارہی تھی کہ یمن میں جاری حالیہ سیاسی بحران حل ہوجائے گا اور باغی درالحکومت سے واپس چلے جائیں گے۔

تاہم وزیرِاعظم کی نامزدگی کے اعلان کے اگلے ہی روز جنگجووں کی پیش قدمی اور ایک اہم شہر پر قبضے نے یمن کے سیاسی مستقبل پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑے کردیے ہیں۔

XS
SM
MD
LG