رسائی کے لنکس

یمن: باغیوں اور حکومت کے درمیان جنگ بندی


حوثی باغی گزشتہ سال ستمبر سے دارالحکومت صنعا پر قابض ہیں

حوثی باغی گزشتہ سال ستمبر سے دارالحکومت صنعا پر قابض ہیں

لڑائی روکنے کے لیے پیر کو شیعہ باغیوں کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں حکومت کی نمائندگی وزیرِ دفاع اور وزیرِ داخلہ نے کی۔

یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی باغیوں اور حکومت کے فوجی دستوں کے درمیان گزشتہ روز سے جاری جھڑپوں کے بعد جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔

لڑائی روکنے کے لیے پیر کو شیعہ باغیوں کے نمائندوں کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں حکومت کی نمائندگی وزیرِ دفاع اور وزیرِ داخلہ نے کی۔

اتوار کو جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب باغیوں کے ایک گروہ نے وزیرِاعظم کے قافلے پر اس وقت حملہ کردیا تھا جب وہ صدر کے ساتھ ملاقات کےبعد صدارتی محل سے روانہ ہوئے تھے۔

اطلاعات ہیں کہ حملے میں وزیرِاعظم خالد باحا محفوظ رہے ہیں۔

باغیوں کے حملے کے بعد علاقےمیں شدید جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں اور پورا علاقہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور دھماکوں سے گونج اٹھا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق جھڑپیں اتنی شدید تھیں کہ علاقہ مکینوں کو جانیں بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی جانب ہجرت کرنا پڑی۔ حکام کا کہنا ہے کہ لڑائی میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ باغیوں نے لڑائی کی آڑ میں دارالحکومت کی اس عمارت پر قبضہ کرلیا ہے جس میں سرکاری ٹی وی چینل اور سرکاری خبر رساں ایجنسی کے دفاتر واقع ہیں۔

صدارتی محل کے نزدیکی علاقے کے رہائشیوں نے ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ پیر کی شام تک فریقین کے درمیان لڑائی کا زور ٹوٹ گیا ہے۔

یمنی حکومت کی ترجمان اور وزیرِ اطلاعات نادیہ السقاف نے حکومت اور باغیوں کے درمیان معاہدہ طے پانے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کی صورتِ حال اب بھی انتہائی کشیدہ ہے۔

اتوار کو شروع ہونے والی جھڑپوں پر عرب لیگ، اور صنعا میں قائم برطانوی اور امریکی سفارت خانوں نے بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے فوری لڑائی روکنے کی اپیل کی تھی۔

یاد رہے کہ حوثی باغیوں نے گزشتہ سال ستمبر میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد یمنی صدر عبد الرب منصور ہادی نے باغیوں کے نئی حکومت کے قیام کے مطالبے کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔

حوثی باغی یمن کے اقلیتی شیعہ "زیدی" قبائل کو زیادہ اختیارات دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دو روز قبل بھی باغیوں نے نئے آئین کی تشکیل کے لیے ہونے والے ایک اجلاس کا انعقاد روکنے کے لیے صدر ہادی کے چیف آف اسٹاف کو اغوا کرلیا تھا۔

XS
SM
MD
LG