رسائی کے لنکس

اقوامِ متحدہ: یمن میں سنگین ترین انسانی المیے کی صورتحال کا اعلان


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اقوامِ متحدہ کے حکام نے بدھ کو کہا تھا کہ ایک کروڑ تیس لاکھ یمنیوں کے پاس بمشکل کافی خوراک ہے، اور نوے لاکھ سے زائد آبادی کی صاف پانی تک رسائی نہیں۔

اقوام متحدہ نے یمن میں اعلیٰ ترین سطح کی ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے، جہاں اس کے بقول ملک میں جاری تنازع کے باعث 80 فیصد سے زیادہ آبادی کو امداد کی سخت ضرورت ہے۔

اقوامِ متحدہ کے حکام نے بدھ کو کہا تھا کہ ایک کروڑ تیس لاکھ یمنیوں کے پاس بمشکل کافی خوراک ہے، اور نوے لاکھ سے زائد آبادی کی صاف پانی تک رسائی نہیں۔

یمن میں سب سے سنگین 'درجہ تین' کی ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد امدادی کارکن ان ایک کروڑ بیس لاکھ افراد تک پہنچنے کی کوشش کریں گے جن کے بارے میں تعین کیا گیا ہے کہ انہیں امداد کی سخت ترین ضرورت ہے۔

یمنی شہریوں کے مصائب میں اس وقت بدھ کو اضافہ ہوا جب جنوبی شہر عدن میں شیعہ حوثی باغیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں سے کم از کم 31 افراد ہلاک اور 100 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

حوثی باغیوں نے گزشتہ سال دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا تھا، جس کے بعد صدر منصور ہادی سعودی عرب منتقل ہو گئے تھے۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد یمن میں فضائی کارروائیوں کے ذریعے ملک میں صدر ہادی کی حکومت کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مگر اقوامِ متحدہ کے حکام کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائیوں اور حوثی باغیوں کی جانب سے اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے زمینی جنگ کے دوران مارچ سے اب تک 1,400 سے زائد شہری مارے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG