رسائی کے لنکس

محمد باسنداوا عہدے سے برخواست ہوئے، جب کہ اطلاعات یہ موصول ہو رہی ہیں کہ حوثی باغیوں نے بغیر مزاحمت کیے متعدد سرکاری عمارات کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے

یمن کےدارالحکومت میں ہفتے بھر سے جاری سنگین جھڑپوں کے بعد، وزیر اعظم نے اتوار کے روز استعفیٰ دے دیا، ایسے میں جب حکومت اور شیعہ حزب مخالف کے ارکان امن سمجھوتے پر دستخط کرنے والے ہیں۔


محمد باسنداوا عہدے سے برخواست ہوئے، جب کہ اطلاعات یہ موصول ہو رہی ہیں کہ حوثی باغیوں نے بغیر مزاحمت کیے متعدد سرکاری عمارات کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

صدر عبد ربو منصور حادی کو تحریر کیے گئے اپنے مراسلے میں، سبک دوش ہونے والے رہنما نے کہا کہ وہ اس لیے عہدہ چھوڑ رہے ہیں، تاکہ قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے کی راہ ہموار ہو۔

اپنی ویب سائٹ پر شائع ایک بیان میں، یمن کے وزیر داخلہ نے ملک کی افواج سے کہا ہے کہ وہ باغیوں سے لڑنے سے احتراز کرے۔

گذشتہ ہفتے، دارالحکومت میں جاری لڑائی میں تیزی آئی۔ تاہم، ہفتے کی رات گئے، یمن میں تعینات اقوام متحدہ کے ایلچی، جمال بنومار نے کہا ہےکہ اتوار کو دونوں فریق ایک اتحادی حکومت تشکیل دینے پر رضامند ہو جائیں گے، جس میں حوثی شامل ہوں گے۔

تاہم، بانداوا کے اِس بیان سے ایک ہی رات قبل شمالی صنعاٴمیں گولہ باری ہوتی رہی، جہاں حکومت نواز افواج نے سنی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے ’امام یونیورسٹی‘ کے قریب شیعہ حوثیوں سے مقابلہ ہوا۔

حوثی باغیوں کے ساتھ مسلح لڑائی کے حوالے سے اِس سنی درسگاہ نے مرکزیت حاصل کر لی ہے، جسے انصاراللہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جو کئی برسوں سے وسیع تر سیاسی شراکت داری کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔


یمنی حکام کے اندازے کے مطابق، حوثی توسط سے ہونے والے اِن مظاہروں نے گذشتہ ماہ مسلح جھڑپوں کا روپ دھار لیا، جس میں اب تک 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کا یہ وہ ملک ہے جہاں ’عرب اسپرنگ‘ کی سرکشی نے جنم لیا، اور گذشتہ دو برسوں کے دوران یمن میں سیاسی بغاوت نے سر اٹھایا ہے۔ سنہ 2012 میں، سابق صدر علی عبداللہ صالح، 30 برس سے زائد عرصے تک عہدے پر براجمان رہنے کے بعد، سبک دوش ہونے پر مجبور ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG