رسائی کے لنکس

عدن: حوثی باغیوں کی پیش قدمی، صدر ہادی کے فرار کی افواہیں


عدن میں نامعلوم طیاروں کی بمباری سے بچنے کے لیے شہری پناہ گاہ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔

عدن میں نامعلوم طیاروں کی بمباری سے بچنے کے لیے شہری پناہ گاہ کی طرف بھاگ رہے ہیں۔

یمنی حکومت کے بعض عہدیداران نے صدر ہادی کی فرار کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر عدن میں ہی موجود ہیں اور انہوں نے حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر صدارتی محل چھوڑا ہے۔

یمن کے دوسرے بڑے شہر عدن کی جانب حوثی باغیوں کی پیش قدمی کے بعد وہاں مقیم صدر عبدالرب منصور ہادی صدارتی محل چھوڑ کر "کسی محفوظ مقام" پر منتقل ہوگئے ہیں۔

اس سے پہلے اطلاعات آئی تھیں کہ عدن سے 60 کلومیٹر شمال میں واقع 'العناد' کے فوجی ہوائی اڈے پر باغیوں کے قبضے اور عدن کی جانب ان کی پیش قدمی کے بعد صدر ہادی شہر سے فرار ہوگئے ہیں۔

تاہم یمنی حکومت کے بعض عہدیداران نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر عدن میں ہی موجود ہیں اور انہوں نے حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر صدارتی محل چھوڑا ہے۔

'العناد' کا فوجی اڈہ امریکہ کے بھی زیرِ استعمال رہا ہے جسے امریکی فوج یمن میں سرگرم القاعدہ کے شدت پسندوں پر ڈرون حملوں کے لیے استعمال کرتی رہی ہے۔

گزشتہ ہفتے یمن کے جنوبی علاقوں کی طرف حوثی باغیوں کی پیش قدمی کے بعد امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ اس نے سکیورٹی کی ابتر صورتِ حال کے باعث اپنے باقی ماندہ تمام اہلکار یمن سے واپس بلالیے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ 'العناد' کے ہوائی اڈے پر قبضے کے بعد باغیوں کی عدن کی جانب پیش قدمی مسلسل جاری ہے اور باغی دستے عدن سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ہیں۔

شہر سے آدھے گھنٹے کے فاصلے پر موجود گاؤں دارسعد کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ حوثی باغی اور ان کے حامی فوجی دستے گاؤں پر قابض ہوچکے ہیں۔

اس سے قبل بدھ کو بعض جنگی طیاروں نے عدن کے اس نواحی علاقے پر بمباری کی تھی جہاں صدر منصور کا عارضی صدارتی محل موجود ہے۔

صدارتی محل کے گرد نصب طیارہ شکن توپوں کی فائرنگ کے بعد جہاز فرار ہوگئے تھے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جہازوں پر کوئی ایسی شناختی علامت یا نشان موجود نہیں تھا جس سے پتا چل سکے کہ ان کا تعلق کس گروپ سے تھا۔

عدن میں غیر یقینی صورتِ حال کے بعد شہر کے ہوائی اڈے کو بند کردیا گیا ہے اور وہاں آنے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ شہر میں افرا تفری کا عالم ہے اور باغیوں سے لڑائی کے لیے قبائلی نوجوانوں کو بھرتی کیا جارہا ہے۔

صدر منصور گزشتہ ایک ماہ سے عدن میں مقیم ہیں جسے انہوں نے اپنا عارضی دارالحکومت قرار دے رکھا ہے۔وہ گزشتہ ماہ حوثی باغیوں کے زیرِ قبضہ دارالحکومت صنعا سے فرار ہونے کے بعد عدن پہنچے تھے جہاں انہوں نے از سرِ نو اپنی حکومت تشکیل دی ہے۔

حوثی باغی نے یمن کے شیعہ زیدی قبائل کو حکومت میں زیادہ اختیارات دینے کے مطالبے سے اپنی تحریک کا آغاز کیا تھا اور وہ گزشتہ سال ستمبر سے دارالحکومت صنعا کے اہم مقامات پر قابض ہیں۔

گزشتہ ماہ کے اوائل میں باغیوں نے پارلیمان کو تحلیل کرنے کے بعد حکومت کا انتظام بھی سنبھال لیا تھا۔

منگل کو صدر ہادی نے اقوامِ متحدہ کی سکیورٹی کونسل سے اپیل کی تھی کہ وہ حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے یمن میں بین الاقوامی فوجی مداخلت کی منظوری دے۔

ہادی حکومت کے وزیرِ خارجہ نے بھی خطے کی عرب ریاستوں سے یمن میں فوجی مداخلت کی اپیل کی ہے جس پر غور کے لیے عرب لیگ کا ایک اہم اجلاس جمعرات کو ہوگا۔

XS
SM
MD
LG