رسائی کے لنکس

صدر ہادی چھ ماہ بعد یمن واپس پہنچ گئے


فائل

فائل

حکام کا کہنا ہے کہ یمنی صدر عیدالاضحی کا تہوار عدن میں منائیں گے جس کے بعد وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوجائیں گے۔

یمن کے صدر عبدربہ منصور ہادی چھ ماہ کی خود ساختہ جلا وطنی ختم کرکے ساحلی شہر عدن واپس پہنچ گئے ہیں جسے انہوں نے اپنی حکومت کا عبوری دارالحکومت قرار دے رکھا ہے۔

یمنی حکام کے مطابق صدر ہادی ایک خصوصی پرواز کے ذریعے منگل کو سعودی عرب سے عدن کے ہوائی اڈے پہنچے جہاں وزیرِاعظم خالد بحاح اور ان کی کابینہ کے وزرا نے صدر کا استقبال کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یمنی صدر عیدالاضحی کا تہوار عدن میں منائیں گے جس کے بعد وہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوجائیں گے۔

ہادی اور ان کی کابینہ کے بیشتر وزرا چھ ماہ قبل دارالحکومت صنعا پر قابض شیعہ حوثی باغیوں کی عدن کی جانب پیش قدمی اور شہر پر مسلسل حملوں کے بعد سعودی عرب فرار ہوگئے تھے۔

صدر ہادی کے ملک سے فرار کے بعد یمن کے بیشتر جنوبی علاقے خانہ جنگی کا شکار ہوگئے تھے جہاں باغیوں اور مقامی قبائلیوں کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں۔

گزشتہ چھ ماہ کے دوران یمن کا دوسرا بڑا شہر عدن بھی کبھی باغیوں اور کبھی مقامی قبائلیوں کے قبضے میں جاتا رہا۔ لیکن جولائی میں حکومت کے حامی قبائلیوں نے عرب اتحاد کے فوجیوں کی مدد سے باغیوں کو پسپا کرکے شہر پر اپنا قبضہ مستحکم کرلیا تھا۔

سعودی عرب کی قیادت میں بننے والے عرب ممالک کے اتحاد نے مارچ میں صدر ہادی کی حکومت کی مدد کے لیے شیعہ حوثی باغیوں کےخلاف فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

عرب ملکوں کے فضائی حملوں کے نتائج جولائی کے اواخر میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے جب باغی عدن کے ساتھ ساتھ جنوبی یمن کے کئی قصبوں سے پسپا ہوگئے تھے۔

عدن پر حکومت کے حامی فوجی دستوں کے کنٹرول کے بعد گزشتہ ہفتے وزیرِاعظم بحاح اور ان کی کابینہ کے وزرا بھی وطن واپس لوٹ آئے تھے جہاں وہ عبوری حکومت کی عمل داری بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

صدر ہادی کی حکومت کے حامی قبائلی اور فوجی دستے اب شمالی یمن اور وہاں واقع دارالحکومت صنعا کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں جس پر باغیوں نے گزشتہ سال ستمبر میں قبضہ کرلیا تھا۔

یمنی حکومت کے حامی جنگجووں کو عرب ملکوں –خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات – کے زمینی فوجی دستوں کی مدد بھی حاصل ہے۔

دریں اثنا دارالحکومت صنعا اور یمن کے دیگر علاقوں میں موجود حوثی باغیوں کے ٹھکانوں اور مورچوں پر عرب طیاروں کی بمباری جاری ہے جس میں منگل کو مزید 20 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

صنعا کے ایک اسپتال کے ذمہ دار نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کو بتایا ہے کہ عرب طیاروں نے صنعا کے جنوبی ضلعے اصباحی میں دو مکانوں پر میزائل داغے جن کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے ہیں۔

گزشتہ روز بھی عرب طیاروں کے حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملوں میں لگ بھگ 50 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

باغیوں کے زیرِ انتظام خبر رساں ادارے 'سبا' نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران عرب اتحاد کے فضائی حملوں میں 236 افراد مارے گئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG