رسائی کے لنکس

یمن کے متحارب دھڑوں کے درمیان امن کی کوششیں


صنعا میں ایک پل پر سعودی فضائی کارروائی سے ہونے والے سوراخ سے بچے نیچے جھانک رہے ہیں۔

صنعا میں ایک پل پر سعودی فضائی کارروائی سے ہونے والے سوراخ سے بچے نیچے جھانک رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے گزشتہ سال امن مذاکرات کے دو دور منعقد کرائے تھے جن میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔

یمن کے متحارب دھڑے ملک میں 18 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہونے والے مذاکرات کے لیے کویت میں جمع ہیں۔ اس جنگ میں چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سرکاری فورسز کے درمیان جنگ سے خطے کے اس غریب ترین ملک میں انسانی بحرانی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جہاں سعودی قیادت میں قائم اتحاد فضائی کارروائیاں سے سرکاری فورسز کی مدد کر رہا ہے۔

یمن کے وزیر خارجہ عبدل مالک نے سرکاری خبررساں ادارے ’سبا‘ کو مذاکرات شروع ہونے سے قبل بتایا کہ ’’ہم سیاسی تبدیلی کے لیے تیار ہیں جس میں کسی کو بھی باہر نہ رکھا جائے ۔۔۔ اور ہم (عوام کے) مصائب کو دور کرنے کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘‘

حوثیوں نے بھی مفاہمت کا عندیہ دیا ہے۔ ان کے ترجمان محمد عبدل سلام نے کویتی میڈیا میں ایک بیان میں ’’عبوری مرحلے میں ہر سیاسی تنازعے کو نمٹانے کے لیے ایک متفقہ اتھارٹی‘‘ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے گزشتہ سال امن مذاکرات کے دو دور منعقد کرائے تھے جن میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔

پیر کو ہونے والے مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب ملک میں ایک ہفتے کے لیے جنگ بندی نافذ ہے تاہم طرفین کی جانب سے خلاف ورزیوں کی شکایت کی گئی ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے سفیر اسمٰعیل ولد شیخ احمد نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ملک نازک دوراہے پر کھڑا ہے جہاں سے ایک راستہ امن کی طرف اور دوسرا خراب ہوتی ہوئی سلامتی اور انسانی صورتحال کی طرف جاتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا تھا کہ امن مذاکرات کے لیے ’’تمام فریقین کی جانب سے مشکل سمجھوتے اور ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے عزم کی ضرورت‘‘ ہو گی۔

اقوام متحدہ میں یمن کے سفیر خالد الیمنی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مذاکرات کے ٹھوس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ ’’اگر یہ ناکام ہو گئے تو تشدد کا ایک اور دور شروع ہو جائے گا۔‘‘

حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر ستمبر 2014 میں قبضہ کر لیا تھا اور گزشتہ سال مارچ میں ملک کے جنوب کی طرف پیش قدمی شروع کی تھی جس کے بعد صدر عبدالربہ منصور ھادی سعودی عرب فرار ہو گئے تھے۔ سعودی عرب نے اس کے حواب میں یمن میں فضائی کارروائیاں کیں۔

XS
SM
MD
LG