رسائی کے لنکس

نوجوانوں کے ساتھ ساتھ متعدد کاروباری کمپنیوں، سیاستدانوں، مختلف فنکاروں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی یو ٹیوب کی بحالی کا انتظار ہے۔

پاکستان میں جب سے یو ٹیوب کی سروس بند ہوئی ہے نوجوانوں کی مصروفیات گویا آدھی ہوگئی ہیں۔سروس بند ہوئے دو مہینے ہونے کو ہیں لیکن آج بھی نوجوانوں کا آپس میں ملاقات کے وقت پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ یہ معطلی کب ختم ہوگی۔

نوجوانوں کے ساتھ ساتھ متعدد کاروباری کمپنیوں، سیاستدانوں، مختلف فنکاروں اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو بھی یو ٹیوب کی بحالی کا انتظار ہے۔ گستاخانہ فلم کا لنک نہ ہٹانے کے باعث حکومت پاکستان نے 17 ستمبر کو یوٹیوب پر پابندی لگا دی تھی جو تاحال جاری ہے۔ لیکن مختلف حلقو ں کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آتا رہا ہے کہ یوٹیوب سے ڈیٹا فلٹر کرنے کے بعد اس پر سے پابندی ہٹا لی جائے۔

اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیر داخلہ رحمن ملک نے مسئلے کے حل کے لئے ایک کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جو ایسا سافٹ وئیر تیار کرنے میں مصروف ہے جس سے ویڈیو شیئرنگ سائٹ پر اپ لوڈ ہونے والی قابل اعتراض وڈیوز کی نگرانی کی جاسکے گی۔ ٹریبون اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق کمیٹی کا قیام اپنی جگہ لیکن اس بارے میں حتمی فیصلہ پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے )کا ہوگا اور وہی طے کرے گی کہ یوٹیوب پر سے پابندی اٹھائی جائے یا نہیں۔۔۔

پی ٹی اے یوٹیوب کی انتطامیہ کے ساتھ پابندی کا سبب بننے والی ویڈیو کو سائٹ پر سے ہٹانے کے بارے میں مذاکرات تو کر ہی رہی ہے ساتھ ساتھ یہ کوشش بھی جاری ہے ہے کہ ویب سائٹ کو مقامی طور پر رجسٹر کرنے کا موقع مل جائے۔

یو ٹیوب کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقے یعنی نوجوانوں کا شوق نئی راہیں نکال ہی لاتا ہے۔ اسی لئے یوٹیوب کا متبادل تلاش کر ہی لیا۔ اب یہ اور بات ہے کہ ان ویب سائٹس کا سرا بھی یوٹیوب سے ہی جاکر ملتا ہے۔

یوٹیوب کے جو متبادل’مارکیٹ‘ میں دستیاب ہیں ان میں ویمیو اور ڈیلی موشن بھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں ویب سائٹس پر بھی قابل اعتراض موجود ہے اور اس کا کوئی خاص نو ٹس بھی نہیں لیا گیا۔

پابندی لگنے کے باوجود پاکستان میں یوٹیوپ وزٹ کرنے والوں کی تعداد میں کوئی خاص کمی نہیں ہوئی ۔ البتہ ایلیگزا ڈاٹ کام کی جانب سے کی گئی درجہ بندی میں کچھ کمی ضرور ہوئی اور یوٹیوب تیسرے نمبرسے گر کرآٹھویں نمبر پر آگئی۔

یوٹیوب پر پابندی سے مختلف ویڈیوشئیرنگ ویب سائٹس کی ٹریفک میں ایک دم بہت اضافہ ہو گیا لیکن یوٹیوب ویڈیوز کی ورائٹی اور تعداد کے لحاظ سے پابندی کے باوجود سر فہرست ہے۔

پاکستان میں جہاں تفریح کی دیگر سہولتیں بہت محدود ہیں، یوب ٹیوب پر پابندی کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد خوش نہیں۔ ان میں سے کئی ایک نے یوٹیوب تک رسائی کی راہیں نکال لی ہیں اور وہ پابندی لگانے کو حکومتی ناکامی قرار دے رہے ہیں۔

انٹرنیٹ فریڈم اور ڈیجیٹل سیکیورٹی سے متعلق ایک این جی او ’بولو بھی‘ کی ایگزیکٹیو ڈائرکٹر ثنا سلیم نے اس بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔”انٹرنیٹ پر موجود مواد رضاکارانہ طور پر اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔ اگر ایک کتاب خراب ہو تو پوری لائبریری بند نہیں کر دی جاتی ۔‘

پاکستان میں یوٹیوب کے بہترین استعمال کی ایک مثال پوپ گلوکار علی گل پیر ہیں۔ ان کا گانا’وڈیرے کابیٹا‘کوئی چینل چلانے پر رضامند نہیں تھاجس پر علی نے اپنا گانا یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دیا۔ گانا اپ لوڈ ہونا تھا کہ ’انسٹنٹ ہٹ‘ ہو گیا اور علی راتوں رات سپر اسٹار کے درجے پر پہنچ گیا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG