رسائی کے لنکس

یوحناآباد مقدمے کا سرکاری وکیل تبدیل


یوحنا آباد میں دہشت گردی کے بعد پولیس صورت حال کو کنڑول کررہی ہے، فائل فوٹو

رانا تنویر نے بتایا کہ انہوں نے سرکاری وکیل سے تصدیق چاہی کہ انہوں نے یہ پیش کش کی ہے تو پہلے تو انہوں نے انکار کیا تاہم جب ان کو بتایا گیا کہ ان کی یہ پیش کش کرنے کی ریکارڈنگ موجود ہے توانہوں نے کہا کہ پھر میں نے جو کہا ہے ، وہی ہے۔

افضل رحمن

لاہور کی نواحی مسیحی بستی یوحنا آباد کے دو افراد کو زندہ جلائے جانے کے مقدمے میں، جو 42 مسیحوں پر قائم ہے، جس سرکاری وکیل نے مسیحی ملزوں کو یہ پیش کش کی تھی کہ وہ اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرلیں تو ان کو رہائی مل سکتی ہے،پنجاب حکومت نے اس سرکاری وکیل کا تبادلہ کر کے اس کے خلاف انکواری کا حکم دے دیا ہے۔

پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے یہ بات ہفتے کے روز وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں بتائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کون ہوتا ہے ایسی پیش کش کرنے والا۔ اس کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہ مبلغ بنتا پھرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے سے مقدمے کا سامنا کرنے والے مسیحوں کو مذہب تبدیلی کے بدلے رہائی کی پیش کش صریح بلیک میلنگ ہے اور ایسا گندہ طرز عمل ہے جو پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔

ایکسپریس ٹربیون کے چیف رپورٹر رانا تنویر نے اپنی رپورٹ میں اس پیش کش کی خبر دی تھی جس کے بعد اس بات کا چرچا ہوا کہ مسیحوں کو رہائی کے بدلے مذہب تبدیل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ رانا تنویر نے وائس آف امریکہ کے ساتھ اپنی گفتگو میں بتایا کہ 28 مارچ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر1 میں سانحہ یوحنا آباد کے حوالے سے دو افراد کو زندہ جلانے کا 42 مسیحوں کے خلاف مقدمہ زیر سماعت تھا۔ سماعت کے بعد جب ملزمان عدالت سے باہر آئے توسرکاری وکیل انیس شاہ نے ان کو یہ پیش کش کی کہ اگر وہ اسلام قبول کرلیں تو اس مقدمے میں ان کی ضمانتیں ہوجائیں گی اور وہ رہا ہوجائیں گے۔

رانا تنویر نے بتایا کہ انہوں نے سرکاری وکیل سے تصدیق چاہی کہ انہوں نے یہ پیش کش کی ہے تو پہلے تو انہوں نے انکار کیا تاہم جب ان کو بتایا گیا کہ ان کی یہ پیش کش کرنے کی ریکارڈنگ موجود ہے توانہوں نے کہا کہ پھر میں نے جو کہا ہے ، وہی ہے۔

رانا تنویر کے بقول مسیحی ملزمان ، ان کے عزیز رشتے دار ، حتی کہ ان کے وکیل تک خوف کے مارے کچھ نہیں بتا رہے لیکن پھر بھی انہوں نے کوشش کرکے اس امرکی تصدیق کر لی کہ سرکاری وکیل نے یہ پیش کش کی تھی۔

مسیحی ملزمان کے اسلام لانے پر رہائی کی پیش کش کا معاملہ منظرعام پر آیا تو مسیحی برادری نے اس پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔

مسیحی برادری کے ایک سرکردہ راہنما شاہد معراج نے وائس آف امریکہ کے ساتھ اپنی گفتگو میں اس پیش کش کی مذمت کی اور کہا کہ سرکاری وکیل کا یہ کام ہرگز نہیں ہے کہ وہ لوگوں کو مذہب بدلنے کی پیش کش کرتا پھرے۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری اپنے مذہب سے محبت کرتی ہے اور انہوں نے اس خبر پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

یوحنا آباد کے 42 مسیحی ملزوں پر قام مقدمے کی اگلی سماعت 4 اپریل کو ہو رہی ہے جس میں اب نئے سرکاری وکیل پیش ہوں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG