رسائی کے لنکس

پاکستان: کم عمری کی شادی لڑکیوں کی صحت کے لئے خطرہ


ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمری میں بچیوں کی شادی کر دینے سے وہ بہت سی جسمانی اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتی ہیں۔

کم عمری کی شادی اور زچگی لڑکیوں کی جسمانی اور نفسیاتی صحت کے لئے بڑا خطرہ ہے جس سے ان کی پوری زندگی متا ثر ہوتی ہے اور اس مسئلے کا سب سے کارآمد حل تعلیم کا فروغ ہے، ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کے عالمی آبادی سے متعلق ادارے کی حالیہ رپورٹ کے اجراء کے موقعے پر ماہرین نے کراچی میں ایک سیمینار میں کیا۔

بُدھ کو کراچی میں یونائٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ کی 2013ء کی ’اسٹیٹ آف ورلڈ پوپیولیشن رپورٹ‘ کے اجراء کے موقعے پر ادارے کے نمائندے ربی روین نے کہا کہ، ’اس سال کی رپورٹ کا عنوان ہے بچپن میں زچگی کے مسئلے کا سامنا کیونکہ پاکستان جیسے ترقی پزیر ممالک میں روزانہ کم عمر بچیوں کی ایک بڑی تعداد کی شادی کر دی جاتی ہے اور یوں یہ کمسن بچیاں بچپن میں ہی حاملہ ہونے کی وجہ سے کئی پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد تو اپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتی ہے‘۔

وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں ربی روین کا کہنا تھا کہ، ’بہت سی لڑکیوں کی اٹھارہ سال سے کم عمر میں اور کئی کی تو پندرہ سال سے کم عمر میں ہی شادی کر دی جاتی ہے اور یوں کم عمری میں لڑکیوں کے حاملہ ہونے سے ان کے دوران حمل پیچیدگی کی وجہ سے معذور ہونے یا موت کا شکار ہونے کے امکانات دو گنا ہو جاتے ہیں۔‘

ملک میں جنسی اور تولیدی صحت اور حقوق کے لئے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے ’فیملی پلانگ اسوسیشن آف پاکستان‘ سے تعلق رکھنے والی نبیلہ مالک کا کہنا تھا کہ، ’ملک میں رسم و رواج کے نام پر کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کو روکنے اور ایسا کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کے ساتھ ساتھ اس طرح کے مقبول لیکن غلط تصورات کا خاتمہ ضروری ہے جن کے تحت لوگ مختلف امراض کے علاج کے لئے کم سن کنواری لڑکیوں سے شادی کر لیتے ہیں۔‘

کم عمری کی شادی اور زچگی اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل میں سب سے اہم تعلیم کو قرار دیتے ہوئے پاکستان میں صحت اور دیگر شعبوں میں فلاحی خدمات انجام دینے والے ادارے امن فاونڈیشن سے ڈاکٹر احسن ربانی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ک، ’پاکستان میں دیگر مسائل کی طرح اس مسئلے کا حل بھی تعلیم ہے ان کا کہنا تھا کہ ملک کا آئین اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ پانچ سال سے سولہ سال کی عمر تک کے ہر بچے اور بچی کو معیاری، مفت اور لازمی تعلیم دی جائے گی اور اگر صرف اس بات پر عمل کر لیا جائے تو ہمارے بہت سے مسائل بشمول کم عمری کی شادیوں کا مسئلہ حل ہو جائے گا‘۔

اس موقعے پر مہمان خصوصی صوبہ سندھ کے سکریٹری بہبود آبادی محمد سلیم رضا نے کم عمری کی شادی اور زچگی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کے لئے حکومتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ، ’وسائل کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے اور ان مسائل کا سامنا کرنے کے لئے میڈیا سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے‘۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG