رسائی کے لنکس

27 سالہ محمد عثمان خان کا انتخاب تعلیم پر ان کی خدمات کے حوالے سے کیا گیا ہے جبکہ ینگ لیڈرز کا اعزاز جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون زینب بی بی کو ان کے ماحولیاتی کاموں کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

رواں برس برطانیہ کی طرف سے کوئینز ینگ لیڈرز کا اعزاز حاصل کرنے والے دولت مشترکہ کے کامیاب نوجوانوں میں دو پاکستانی نوجوان بھی شامل ہیں، جنھیں ان کی کمیونٹی میں غیر معمولی رہنما کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

دی کوئینز ینگ لیڈرز 2016ء کے طور پر دولت مشترکہ بھر سے 60 با صلاحیت نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا ہے۔ جن میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے محمد عثمان خان اور زینب بی بی اس اعلیٰ اعزاز کو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

انھیں آئندہ برس ملکہ الزبیتھ دوئم کی طرف سے یہ ایوارڈ برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں پیش کیا جائے گا۔

27سالہ محمد عثمان خان کا انتخاب تعلیم پر ان کی خدمات کے حوالے سے کیا گیا ہے جبکہ ینگ لیڈرز کا اعزاز جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون زینب بی بی کو ان کے ماحولیاتی کاموں کے اعتراف میں ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔

ملکہ الزبیتھ ڈائمنڈ ٹرسٹ کی جانب سے کوئینز ینگ لیڈرز 2016ء کے فاتحین کے ناموں کا اعلان منگل کو کیا گیا۔

ایوارڈ کے فاتحین کو آئندہ برس برطانیہ میں ایک ہفتے کے رہائشی پروگرام میں شرکت کرنے کے لیے مدعو کیا جائے گا جہاں وہ ملکہ برطانیہ سے اپنا ایوارڈ وصول کریں گے۔

اس سال ایوارڈ جیتنے والے نوجوانوں کی عمریں 18 سے 29 برس کے درمیان ہیں جو دوسروں کو تعاون فراہم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور ان غیر معمولی نوجوانوں نے اپنی کمیونٹی کو بہتر بنانے میں پہل کی ہے اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں میں تعلیم، موسمیاتی تبدیلی، صنفی مساوات، ذہنی صحت اور معذوروں سے مساوات سمیت مختلف مسائل کے حل اور معاشرے میں دیرپا تبدیلی لانے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

کوئن الزبیتھ ڈائمنڈ جوبلی ٹرسٹ، کومک ریلیف اور رائل کامن ویلتھ سوسائٹی کی طرف سے دولت مشترکہ کے لیے ملکہ کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پہلی بار 2014ء میں دی کوئینز ینگ لیڈرز ایوارڈز کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔

محمد عثمان خان: کوئینز ینگ لیڈرز کا اعزاز پانے والے نوجوان محمد عثمان خان پاکستان کے ان غیر معمولی نوجوانوں میں سے ایک ہیں جو ایک رہنما کی حیثیت سے اپنی کمیونٹی کے لوگوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

محمد عثمان خان کا تعلق خوشاب سے ہے انھوں نے معاشرے میں اپنا فعال کردار نبھاتے ہوئے اپنی زندگی بچوں کی تعلیم کے لیے وقف کر رکھی ہے۔

محمد عثمان نے برٹش کونسل کے ایکٹیو سیٹیزن پروگرام میں حصہ لینے کے بعد ایک تعلیمی پروگرام 'بیک ٹو لائف ایجوٹینمنٹ' کے نام سے ڈیزائن کیا ہے، یہ پروگرام سڑک کے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے سہولیات فراہم کرتا ہے۔

اس پروگرام کے فروغ کے لیے انھوں نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور لگ بھگ پانچ سو سے زائد رضا کار نوجوانوں کی حوصلہ افزائی سے ملک کے چار صوبوں میں اس منصوبے کا نفاذ کیا ہے۔

محمد عثمان خان نے' بیلی آرگنائزیشن' کے نام سے ایک تنظیم قائم کی ہے جو غیر مراعات یافتہ طبقے کے نوجوانوں کو تعلیم اور با اختیار بنانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

علاوہ ازیں انھوں نے اپنے آبائی گاؤں میں بھی ایک کمیونٹی اسکول کی باگ ڈور سنبھال رکھی ہے۔ جہاں وہ ایمپاورمنٹ کے نام سے ایک پروگرام چلا رہے ہیں جس میں اساتذہ اور طالب علموں کو کمپیوٹر کی تعلیم، انگریزی زبان کی مہارت سکھائی جاتی ہے۔

زینب بی بی: پاکستان میں لاہور شہر سے تعلق رکھنے والی زینب بی بی ماحولیات میں گہری دلچسپی رکھتی ہے، جس میں ان کی خاص دلچسپی قابل تجدید توانائی یعنی مختلف قدرتی ذرائع مثلاً سورج کی روشنی، ہوا، بارش یا لہروں وغیرہ سے حاصل کی جانے والی توانائی کے شعبے میں ہے۔

2013ء میں زینب بی بی نے گرین توانائی کے لیے ایک سوسائٹی قائم کی جس کا مقصد لوگوں کو گھریلو اور قابل تجدید ایندھن کے بارے میں شعور فراہم کرنا تھا۔

زینب فضلہ ٹشو پیپر سے بائیو ایتھنول یا بائیو فیول بنانے میں کامیاب ہو گئی ہیں (بائیو فیول یا حیاتیاتی ایندھن کو کسی بھی حیاتیاتی مادے سے بنایا جاتا ہے)

زینب کے مطابق یہ بائیو ایندھن گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، جو صاف توانائی فراہم کر سکتا ہے۔

بائیو ایندھن کو اجناس سے بھی تیار کیا جا سکتا ہے اسی مقصد کے لیے زینب نے پاکستان میں ایک امریکی پودا متعارف کرایا ہے جو بائیو ایتھنول یا بائیو ڈیزل پیدا کرتا ہے۔

زینب امریکہ سے 'کیمیلینا سٹیوا' نامی ایک پھول دار پودا لائی ہیں، جو ایک مختصر سائیکل کی نشوونما رکھنے والا پودا ہے اس پودے کو روایتی طور پر امریکہ میں خوردنی تیل اور جانوروں کے کھانے کی پیداوار کے لیے کاشت کیا جاتا ہے۔

زینب کا کہنا ہے کہ یہ پودا خشک سالی اور بنجر زمینوں میں نشوونما پانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اسے پاکستان کے ریگستانی علاقوں میں لگایا جا سکتا ہے۔

امریکی ریاست مونٹانا میں اس پودے کو حیاتیاتی ایندھن کی ممکنہ صلاحیت کی وجہ سے بڑے پیمانے پر کاشت کیا جانے لگا ہے۔

XS
SM
MD
LG