رسائی کے لنکس

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ شخصیت کی کچھ خصلتوں اور کالج کے 'میجر' یعنی میدان مطالعہ کا انتخاب کے درمیان 'باہمی تعلق' پایا جاتا ہے ۔

اعلیٰ تعلیم کے لیے کس شعبے کا انتخاب کیا جائے یہ سوال طالب علموں کے لیے بہت اہم اور کافی پیچیدہ ہوتا ہے لیکن، ایک حالیہ مطالعاتی تجزیہ کے مطابق اس سوال کا جواب ان کی شخصیت میں چھپا ہو سکتا ہے۔

علم نفسیات کے مطابق شخصیت کی کچھ خصلتوں اور کالج کے 'میجر' یعنی میدان مطالعہ کا انتخاب کے درمیان 'باہمی تعلق' پایا جاتا ہے۔

لیکن ڈنمارک میں آرہس یونیورسٹی سے منسلک محقق ڈاکٹر اینا ویڈل کو یقین نہیں تھا کہ اس مفروضے کی بنیاد اصل سائنس پر ہے لہذا، انھوں نے 1992ء سے 2015ء کے درمیان شائع ہونے والے 12جائزوں کا تجزیہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں مجموعی طور پر 13,389 کالج کے طلبہ شامل تھے۔

یہ نتائج اس ماہ جنوری کے 'پرسنالٹی اینڈ انڈیوجول ڈیفرنسس' نامی رسالے میں شائع ہوئے ہیں جس میں ماہرین نفسیات نے دریافت کیا کہ خصوصی مضمون کے انتخاب اور شخصیت کی خصلتوں سے متعلقہ دقیانوسی تصورات سچ ہو سکتے ہیں۔

مطالعہ کی سربراہ ڈاکٹراینا ویڈل کو پتا چلا کہ مختلف تعلیمی شعبوں کے طالب علموں کے درمیان شخصیت کی پانچ بڑی خصلتوں کے حوالے سے اہم اختلافات پائے جاتے ہیں۔

ماہرین نفسیات کے مطابق شخصیت کی پانچ نمایاں علامتیں خارجی شغف، صاف دلی، موافقت پذیری، فرض شناسی اور اعصابی خلل ہیں، جن سے انسان کی شخصیت کا اظہار ہوتا ہے۔

خارجی شغف کی خصلت کے حوالے سے محقق اینا ویڈل کو پتا چلا کہ قانون، سیاسیات، معاشیات اور پری میڈیکل کے طالب علموں نے شخصیت کی اس خصلت کے لیے آرٹس، ہیومنیٹیز اور دیگر سائنسی علوم کا مطالعہ کرنے والے طالب علموں کے مقابلے میں زیادہ اسکور حاصل کیا۔

صاف دلی یا سادہ طبیعت رکھنے والوں کو اکثر تخلیقی صلاحیتوں کے لیے اچھا سمجھا جاتا ہے اور یہ ہیومنیٹیز، نفسیات، آرٹس اور سیاسیات کا مطالعہ کرنے والے طلبہ کی سب سے نمایاں خاصیت تھی۔ اس خصلت کے لیے انھوں نے زیادہ نمبر حاصل کیے جبکہ، ان کے مقابلے میں انجنیئرنگ، قانون، معاشیات اور سائنس کے مضامین پڑھنے ساتھیوں نے عام طور پر سب سے کم نمبر حاصل کیے۔

موافقت پزیری کے حوالے سے ماہرین نفسیات کو یقین ہے کہ اس خصلت کے ساتھ لوگوں میں قربانی کے جذبے کا رجحان ملتا ہے۔ جبکہ اس خصوصیت کے ساتھ قانون، بزنس اور معاشیات کے مضامین رکھنے والے طالب علموں نے دوسرے تمام مضامین کے طالب علموں کے مقابلے میں سب سے کم نمبر حاصل کیے۔

اعصابی خللل کے لیے کالج میں معاشیات اور بزنس کا مطالعہ کرنے والے طلبہ نے سب سے کم اسکور حاصل کیا جبکہ۔ ان کے مقابلے میں آرٹس اور ہیو منیٹیز کے میجر کے ساتھ طلبہ نے اس خاصیت کے لیے مسلسل زیادہ اسکور حاصل کیا۔

فرض شناسی یا باضمیری کی خصوصیت کے حوالے سے محقق نے جانا کہ آرٹس اور ہیومنیٹیز کا مطالعہ کرنے والوں میں یہ خصلت مضبوط نہیں تھی۔ جنھوں نے دوسرے دیگر تعلیمی شعبوں میں مطالعہ کرنے والے طلبہ کے مقابلے میں فرض شناسی کے لیے سب سے کم نمبر حاصل کیے۔

محقق اینا ویڈل نے ان وجوہات کے بارے میں سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر ہم یہ مان لیں کہ مختلف تعلیمی شعبوں کے طالب علموں کے درمیان شخصیات کے اختلافات حقیقت ہیں۔

تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ شخصیت کی ان خصوصیت کے ساتھ لوگ مخصوص مضامین کا انتخاب کرتے ہیں یا پھر ان کے تعلیمی شعبے کا ماحول انھیں یہ خصوصیات دیتا یے۔

محقق اینا ویڈل نے دو مطالعوں کے تجزیوں کے بعد جس میں طالب علموں کی شخصیت کا اندراج انرولمنٹ کے ساتھ کیا گیا تھا یہ نتیجہ نکالا کہ ''شخصیت کے یہ اختلافات طالب علموں میں پہلے سے موجود تھے اور سماجی ماحول کے نتیجے میں پیدا نہیں ہوئے تھے۔''

XS
SM
MD
LG