رسائی کے لنکس

پاکستانی نوجوانوں میں بڑھتا ہوا موٹاپا

  • شہناز نفیس

پاکستانی نوجوانوں میں بڑھتا ہوا موٹاپا

پاکستانی نوجوانوں میں بڑھتا ہوا موٹاپا

نوجوان نسل اور بچوں میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ غیر صحت بخش خوراک اور ورزش کی کمی ہے۔ طبی ماہرین کئی بیماریوں کی اضافے کی وجہ بڑھتے ہوئے وزن کو قراردیتے ہیں

پاکستان کی نئی نسل میں موٹاپا تیزی سے پھیل رہاہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر وسیم خواجہ کہتے ہیں نوجوان نسل اور بچوں میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ غیر صحت بخش خوراک اور ورزش کی کمی ہے۔ طبی ماہرین کئی بیماریوں کی اضافے کی وجہ بڑھتے ہوئے وزن کو قراردیتے ہیں۔

صحت کے عالمی ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنيا بھر ميں 30 کروڑ کے لگ بھگ افرادذيابيطس ٹائپ ٹو ميں مبتلا ہیں۔ عالمی ادارے کے مطابق ا س مرض کی سب سے بڑی وجہ موٹاپا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو 2050ء تک ہر تین میں سے ایک شخص ذیابیطس کا مریض ہوگا۔

حال ہی میں واشنگٹن میں قائم ورلڈ واچ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں 177 ممالک کے سروے کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت موٹاپے اور وزن کی زیادتی کے شکار افراد کی تعداد تقریباً دوارب ہے۔

کئی دوسری رپورٹوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ موٹاپے میں مبتلا افراد کی اکثریت کا تعلق امریکہ، چین اور بھارت میں ہے۔لیکن پاکستان کے طبی ماہرین کے مطابق وہاں بھی اس شرح میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔

وائس آف امریکہ کی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر وسیم خواجہ کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں لوگوں کو آگاہ کرنےکے لیے قومی سطح پر مہم چلانے کی ضرورت ہے جس میں صرف میڈیا کے ساتھ ساتھ اسکولوں، کالجوں اور دیگر اداروں کو بھی بھرپور حصہ لینا چاہیئے۔

اُن کا کہناتھا کہ یہ خیال غلط ہے کہ موٹاپے کا تعلق امیروں اور کھاتے پیتے طبقے سے ہے۔ کیونکہ، وزن کی زیادتی میں مرغن غذا ہی نہیں بلکہ غیر متوازن خوراک ا اور زندگی گذارنے کا انداز بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہناہے کہ موٹاپا لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتاہے۔ گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی کا کہناہے کہ لڑکیوں میں موٹاپے کے باعث ہارمونز کا نظام متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہوتا ہے جس سے مستقبل میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے اس کی پیدائش میں پیچیدگیاں پیش آسکتی ہیں۔ کیونکہ موٹاپا ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں کئی گنا اضافہ کردیتا ہے جس کا نتیجہ حاملہ خواتین میں پیچیدگیوں کی شکل میں نکل سکتا ہے۔

طبی ماہرین یہ مشورہ دیتے ہیں کہ صحت مند زندگی گذارنے اور مستقبل میں مہلک امراض سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ سادہ اور متوازن خوراک استعمال کریں۔ سادہ طرز زندگی اپنائیں ، ہلکی پھلکی ورزش کو اپنے روزمرہ کے معمول کا حصہ بنائیں اور پریشانیوں سے ہر ممکن بچنے کی کوشش کریں۔

طبي ماہرين کے مطابق پاکستان سميت ديگر ممالک ميں اگر کھانے پينے اور لائف سٹائل کا موجودہ رجحان جاري رہا توطبي مسئلے کي شکل ميں ايک اور چيلنج کا سامنے آنا ناگزير بن جائے گا۔

XS
SM
MD
LG