رسائی کے لنکس

دنیا کے کروڑوں نوجوان بے روزگار


اگر آپ نوجوان ہیں اور نوکری نہ ملنے پر پریشان ہیں تو تسلی رکھیے۔ آپ اکیلے اس مشکل صورتِ حال کا شکار نہیں بلکہ دنیا بھر میں ساڑھے سات کروڑ سے زائد نوجوان بے روزگاری کا عذاب جھیل رہے ہیں۔

اگر آپ نوجوان ہیں اور نوکری نہ ملنے پر پریشان ہیں تو تسلی رکھیے۔ آپ اکیلے اس مشکل صورتِ حال کا شکار نہیں بلکہ دنیا بھر میں ساڑھے سات کروڑ سے زائد نوجوان بے روزگاری کا عذاب جھیل رہے ہیں۔

لیکن اصل بری خبر یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں بہتری کا امکان تو کجا، خدشہ یہ ہے کہ مستقبل میں دنیا کے بیشتر ممالک میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے دستیاب مواقع میں مزید کمی آئے گی۔

اس خدشے کا اظہار عالمی ادارہ محنت (انٹرنیشل لیبر آرگنائزیشن – آئی ایل او) نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں کیا ہے ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورو کرنسی استعمال کرنے والے یورپی ممالک کو درپیش مالی بحران کے اثرات جیسے جیسے ترقی پذیر ممالک تک پہنچیں گے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع مزید کم ہوتے جائیں گے۔

عالمی ادارے نے کہا ہے کہ اپنا پیشہ ورانہ کیریئر شروع کرنے کی تگ و دو کرنے والے 15 سے 24 برس کے نوجوان عالمی کساد بازاری سے بطورِ خاص متاثر ہورہے ہیں ۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 'یورو زون' کا بحران یورپ سے نکل کر مشرقی ایشیا اور لاطینی امریکہ تک کی معیشتوں کو متاثر کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقی ممالک میں معاشی کساد بازاری کی صورتِ حال زیادہ سنگین ہے جہاں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 25 فی صد سے بھی زائد ہوچکی ہے۔

رپورٹ کے مرکزی مصنف ایکہارڈ ارنسٹ نے 'وائس آف امریکہ' سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی صورتِ حال آئندہ پانچ برسوں میں مزید بگڑ جائے گی۔

رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2017ء تک مشرقی افریقی ممالک میں بےروزگاری 5ء9 فی صد کی موجودہ شرح سے بڑھ کر 4ء10 تک جاپہنچے گی۔ رپورٹ کے مطابق افریقہ کے صحارا خطے کے ممالک میں نوجوانوں میں بےروزگاری کی شرح گزشتہ کئی برسوں سے 12 فی صد کی سطح پر برقرار ہے۔

عالمی ادارہ محنت کے ماہرین نے اپنی سالانہ رپورٹ میں پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ برسوں کے دوران میں صرف ترقی یافتہ ممالک میں نوجوانوں کے لیے روزگار کی صورتِ حال بہتر ہوگی اور 2017ء تک ان ممالک میں بےروزگاری کی شرح موجودہ 5ء17 فی صد سے گھٹ کر 6ء15 فی صد ہوجانے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ حکومتیں نوجوانوں کو فنی تربیت اور روزگار کی یقینی فراہمی کے منصوبے شروع کریں تاکہ ملازمتیں تلاش کرنے والے نوجوانوں کو سڑکوں پر دھکے کھانے سے بچایا جاسکے اور ان کی صلاحیتیں کسی مثبت سرگرمی پر صرف ہوں۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG