رسائی کے لنکس

گوگل کے سربراہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ، ٹی وی اور یو ٹیوب کے درمیان زیادہ سے زیادہ ناظرین کو متوجہ کرنے کی دوڑ میں یو ٹیوب بہت آگے نکل گیا ہے۔

ٹی وی کی کامیابی کا راز ہے اس کا گھر گھر میں موجود ہونا۔ یہ ہی نہیں بلکہ ٹی وی نے برسوں سے لوگوں کے دلوں پر اپنی دھاک جما رکھی ہے۔ لیکن ایک ویڈیو شئیرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب کا کہنا ہے کہ اس نے عرصہ دراز سے قائم روایتی ٹی وی کی اجارہ داری کے دور کو ختم کر دیا ہے۔
گوگل کے سربراہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹی وی اور یو ٹیوب کے درمیان زیادہ سے زیادہ ناظرین کو متوجہ کرنے کی دوڑ میں یو ٹیوب بہت آگے نکل گیا ہے۔
انٹرنیٹ ویب سرچ گوگل کے سربراہ ایرک شیمٹ نے گذشتہ ہفتے نیویارک میں نیوز فرنٹ ایونٹ کے موقع پر ڈیجٹل اشتہاری کمپنیوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا،'' آنے والا وقت یو ٹیوب کا ہو گا۔ جس کے ناظرین کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔'' جبکہ انھوں نے ان تمام قیاس آرائیوں کی نفی کی کہ یو ٹیوب جلد ہی خود کا ٹی وی چینل لانچ کرنے والا ہے بلکہ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یو ٹیوب پہلےسے ہی ٹی وی کے پروگرام دیکھا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہر ماہ ایک بلین منفرد صارفین یو ٹیوب کی ویب سائٹ پر ویڈیوز دیکھتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یو ٹیوب اپنے ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ یو ٹیوب نے اپنی تمام توجہ دنیا بھر کے ناظرین تک پہنچنے اور انھیں یو ٹیوب کے ساتھ منسلک کرنے پر مرکوز کررکھی ہے ۔

یو ٹیوب کو ٹی وی کا نعم البدل نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ یہ ایک منفرد پلیٹ فارم ہے جہاں صرف یک طرفہ بات نہیں سنی جاتی بلکہ ہر بات کا جواب بھی دیا جاسکتا ہے ۔
یو ٹیوب کے مستقبل کو انھوں نے خوش آئند بتاتے ہوئے کہا کہ کہیں آپ ایک ارب ناظرین کی تعداد کو بہت زیادہ تصور کرنے کی غلطی تو نہیں کر رہے ہیں کیونکہ مستقبل میں ان ناظرین کی تعداد میں پسماندہ ممالک کے افراد بھی شامل ہو جائیں گے اور تب یہ تعداد ایک ماہ میں 6 سے 7 ارب افراد تک پہنچ جائے گی ۔
اس موقع پر یو ٹیوب گلوبل کے سربراہ رابرٹ کنکل کا کہنا تھا کہ ، ''ابتداء میں میں بھی اسے ایک ٹی وی ہی سمجھتا تھا لیکن یہ ٹی وی نہیں ہے میں غلط تھا۔''
یو ٹیوب کی انفرادیت میں اس کے 18 سے 34 سال کی عمر کے نوجوان شامل ہیں جو کسی دوسرے کیبل نیٹ ورک کے مقابلے میں سب سے ذیادہ یو ٹیوب دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ جبکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ویڈیوز پر اپنی رائے کا اظہار کیا جاتا ہے، پسند اور ناپسند کا ووٹ دیا جاتا ہے اسی لیے اسے ایک سوشل نیٹ روکنگ ویب سائٹ ہونے کا بھی درجہ حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ'' ٹی وی کا مطلب صرف پہنچانا ہوتا ہے جبکہ یو ٹیوب کا مقصد لوگوں کو اپنے ساتھ منسلک کرنا ہے ۔''
برطانیہ میں آج بھی روایتی ٹی وی دیکھنے والوں کی تعداد یو ٹیوب کے مقابلے میں زیادہ ہے جہاں ہر روز ایک عام برطانوی 4 گھنٹے اور 7 منٹ ٹی وی پر گزارتا ہے جبکہ وہ یو ٹیوب کو ہر روز صرف 20 منٹ کے لیے استعمال کرتا ہے۔
یو ٹیوب نےحال ہی میں''ڈریم ورک اینیمیشن'' سے نوجوانوں کy مقبول 'اوسم نیس' ٹی وی کے حقوق 33 ملین ڈالر میں خرید لیے ہیں۔ جبکہ یو ٹیوب کے حوالے سے یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ بہت جلد یو ٹیوب اپنے صارفین سے کچھ خاص ویڈیوز کے دیکھنے کا معاوضہ وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
ویڈیو شئیرنگ ویب سائٹ یو ٹیوب 2005 میں قائم ہوئی تھی جس نے بہت تیزی سے مقبولیت حاصل کی اور اس کا شمار انٹرنیٹ کی کی مقبول ویب سائٹوں میں کیا جاتا ہے ۔ انٹرنیٹ سرچ لیڈر گوگل نے یو ٹیوب کے حقوق 2006 میں 1.65 بلین ڈالر میں خریدے تھے۔ اس موقعے پر گوگل کے سربراہ نے اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ویب سائٹسً اپنے اپنے طریقہ کار کے مطابق آذادانہ طور پر کام کرتی رہیں گی۔
XS
SM
MD
LG