رسائی کے لنکس

خواتین یا پشتون ہونا میوزک کیرئر میں رکاوٹ نہیں بنا، زیب اینڈ ہانیہ


خواتین یا پشتون ہونا میوزک کیرئر میں رکاوٹ نہیں بنا، زیب اینڈ ہانیہ

خواتین یا پشتون ہونا میوزک کیرئر میں رکاوٹ نہیں بنا، زیب اینڈ ہانیہ

’’ زیب اینڈ ہانیہ‘‘ بینڈ کی زیب النساء اور ہانیہ اسلم کی وائس آف امریکہ سے گفتگو

پاکستان میں موسیقی سے اپنے لگاو پر کسی سماجی دباو کا سامنا کرنا پڑا اور نہ آج تک طالبان سمیت کسی گروپ کی جانب سے دھمکیاں ملی ہیں۔ پاکستان معاشرہ موسیقی سے انتہائی رغبت رکھتا ہے اور جتنی پذیرائی پاکستان سے ملی ہے اس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

ان خیالات کا اظہار امریکہ سے فارغ التحصیل زیب النساء اور ہانیہ نے جو پاکستان میں زیب اینڈ ہانیہ سے موسوم مشہور میوزک بینڈ چلا رہی ہیں ، وائس آف آمریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران کیا۔

زیب اور ہانیہ نے بتایا کہ میوزک کا شوق خاندان سے ملا جب بچپن میں گھر میں موسیقی کی محافل منعقد ہوتی تھیں۔ افغان گائک یا مقامی گلوکار ان محفلوں میں آتے تھے یا غیرروایتی انداز میں سب گھر والے مل بیٹھ کر ایک دوسرے سے گانے سنتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی نانی خاص طور پر شاعری بھی کر سکتی تھیں اور اپنی شاعری کو سروں میں بھی ڈھالنے کا ہنرجانتی تھیں اگرچہ ان کی ٹیلنٹ دنیا کے سامنے نہیں آیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال بہت کیا جاتا ہے کہ کیا پشتون فیملی اور صوبے خیبر پختونخوا سے تعلق موسیقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا تو ہمارا ایماندارانہ جواب ہوتا ہے کہ ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا۔ بعض تصورات ویسے ہی لوگوں کے ذہنوں میں گہرے ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پورے ملک کا کلچر عمومی طور پر ایک جیسا ہے جس میں موسیقی کو بہت پسند کیا جاتا ہے خواہ وہ پشاور ہو یا لاہوریا ملک کے دیگر شہر۔

زیب اور ہانیہ نے بتایا کہ موسیقی کو بطور کیرئر اپنانا بہرحال ان کے اپنے لیے منفرد بات تھی ۔ انہوں نے اس بارے میں کبھی سوچا نہیں تھا۔ کیونکہ وہ امریکہ میں تعلیم کے دوران محض اس وقت میوزک کو وقت دیتی تھیں جب وہ اپنے گھر والوں اور گھر میں منعقد ہونے والی محفلوں کو یاد کرتی تھیں۔

ایسے حالات میں جب پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے کئی ایک فنکار خاص طور پر خواتین آرٹسٹ طالبان کی جانب سے پیدا ہونے والی مشکلات کا ذکر کرتی ہیں حتی کہ میوزک سے جڑے سازوسامان کا کاروبار کرنے والے افراد کے بھی سنگین نتائج سے دوچار ہونے کی اطلاعات ذرائع ابلاغ میں آتی رہتی ہیں، زیب اور ہانیہ کا تجربہ مختلف رہا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں عسکریت پسندوں سمیت کبھی کسی جانب سے ڈرایا دھمکایا نہیں گیا۔ البتہ ان کے کیرئیر میں سب سے مشکل مرحلہ میڈیا کا سامنا کرنا تھا کیونکہ وہ اس کے لیے تیار نہیں تھیں۔

زیب اور ہانیہ جو آپس میں کزنز ہیں ان کا میوزک بینڈ پاکستان میں اردو، پشتو، فارسی اور ترک زبان میں پرفارم کرتا ہے۔ زیب نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت بھی حاصل کر رکھی ہے جبکہ ہانیہ ان کے ساتھ گٹار بجاتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کی مقبولیت میں روائتی میڈیا کے لیے فیس بک اور سوشل نیٹ ورک کے دیگر ذرائع نے بہت کردار ادا کیا ہے۔ زیب اور ہانیہ نے بتایا کہ وہ آج کل اپنے وڈیو البم پر کام کر رہی ہیں۔ وہ بتاتی ہییں کہ بلاشبہ گیتوں کے مقبول ہونے پر انہیں خوشی ملتی ہے لیکن اس سارے کام میں ان سب سے زیادہ اچھا اس وقت محسوس ہوتا ہے جب وہ گانے کی تخلیق کے مراحل میں ہوتی ہیں اور موسیقی کے شعبے کے اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر اس کو کوئی شکل دے رہی ہوتی ہیں۔

زیب اور ہانیہ نے کہا کہ وہ انپے مداحوں کو اگلے دو تین مہینوں میں ایک بڑا سرپرائز دیں گی۔

XS
SM
MD
LG